رائیوونڈ میں دھرنے سے دو روز قبل ہائی کورٹ میں سماعت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’تحریک انصاف اور مسلم لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہونے کا اندیشہ ہے‘

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ رائے ونڈ کے قریب تیس ستمبر کو دھرنا دینے سے روکنے کی درخواست پر سماعت کی تاریخ اٹھائیس ستمبر مقرر کردی ہے۔

تحریک انصاف کے دھرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہائیکورٹ کا تین رکنی فل بنچ کرے گا۔

دھرنے کے مقام کے خلاف درخواست ایک شہری عاطف ستار نے قانون دان اے کے ڈوگر کے توسط سے دائر کی ہے جس میں 30 ستمبر کو عمران خان کے دھرنے کو رکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ رائے ونڈ کے قریب اڈہ پلاٹ کے مقام پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان خاصی سیاسی کشیدگی نظر آ رہی ہے۔

تین رکنی فل بنچ کی سربراہی لاہور ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس شاہد حمید ڈار کر رہے ہیں جبکہ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس انوار الحق اور جسٹس قاسم خان شامل ہیں۔

Image caption ہائیکورٹ میں ہی عمران خان کے خلاف ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے اور وہ اشتعال انگیز تقاریر کر رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ عمران خان کی اشتعال انگیز تقاریر ملک میں انتشار کا سبب بن سکتی ہیں۔

وکیل کے مطابق دھرنے کے اعلان کے بعد تحریک انصاف اور حکمران جماعت مسلم لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے تحریک انصاف کے سربراہ کو رائے ونڈ میں دھر نا دینے سے روکا جائے۔

درخواست ابتدائی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کی تھی اور پھر درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس سفارش کے ساتھ بھجوادی کہ اس کی سماعت کے لیے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا اور یہ بنچ پہلے سے اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

دوسری جانب سینچر کو لاہور ہائیکورٹ میں ہی عمران خان کے خلاف ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہاگیا کہ عمران خان اشتعال انگیرز تقاریر کر رہے ہیں ان کو ایسی تقاریر سے روکا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں