نیلم کا پانی بھی چناب کی طرح خون رنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشمیر ایک ایسا زخم ہے جو 70 سال پہلے جانے کس اناڑی دائی نے برِصغیر کے جسم پہ اس وقت لگایا، جب اس کے بطن سے ہندوستان اور پاکستان کا ظہور ہوا۔ حقیقت اور افسانہ بر طرف، 70 سال سے دونوں ملکوں کے عوام ایک عذاب سے گزر رہے ہیں۔ کشمیریوں پہ تو جو گزری اور گزر رہی ہے وہ ایک الگ داستان ہے۔

کشمیر کی وجہ سے سنہ 1965 کی جنگ لڑی گئی، ظاہر ہے مرنے والے انسان ہی تھے، بنگال میں جو کچھ ہوا، اس میں ہندوستان کے کردار اور جواب میں پاکستان کے سیاستدانوں اور فوج کی بوکھلاہٹ اور اس بوکھلاہٹ کے نتیجے میں مرنے والے ہزاروں انسان اور بہاریوں کا مسئلہ، خالصتان کی تحریک اور اس میں پاکستان پر لگنے والے الزام اور اس کے ان گنت مقتول، کارگل کی جنگ، افغانستان میں امریکہ کی پراکسی وار لڑنے کے لیے پاکستان کی آمادگی اور اس جنگ کے مقتول اور مہاجر، ہزاروں، لاکھوں بے روزگار گوریلا ( جنھیں اب دہشت گرد کہا جاتا ہے) اور ان دہشت گردوں کی گئی خوں ریزی، اوجڑی کیمپ کا سانحہ، پاکستان میں اب تک آنے والے تمام مارشل لا، ضیا الحق کے طیارے کا حادثہ، غربت کے باوجود دونوں ملکوں کا جناتی دفاعی بجٹ، ہندوستان کے مسلمانوں پہ مستقلاً شک کی نظر، پاکستان میں اقلیتوں کا مسائل، دونوں ملکوں کے درمیان پانی کا مسئلہ اور دونوں ملکوں کا ایٹمی پروگرام، ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟

ظاہر ہے یہ سارا زہر اسی نا سور کا پھیلایا ہوا ہے جسے جانے کیوں لائن آف کنٹرول کی پٹی باندھ کر گلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ کشمیر کسی فرد کی جاگیر نہیں، سب جانتے ہیں کی تین جون 1947 کے منصوبے کے مطابق، دیسی ریاستوں کے والی ہی ان کی قسمتوں کے مختار تھے یا پھر ان کے عوام اور یہ بھی سب ہی جانتے ہیں کہ ان والیوں کے ساتھ دونوں ملکوں میں کیا کیا ہوا، دونوں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا گئیں۔ منادر، ہنگرول، جونا گڑھ، حیدر آباد دکن، بہاولپور، دیر، چترال، قلات، وغیرہ وغیرہ۔ جن والیانِ ریاست نے خوشی سے الحاق کیا، ان کی رضامندی ایسی ہی تھی جیسے خوفناک شکلوں والے چچا تایوں کے سامنے شادی کے لیے کی گئی ہاں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہندوستان کا اٹوٹ انگ

ان سب راجاؤں ، مہا راجاؤں، مہتروں، نوابوں رئیسوں کا انجام بھی وہی ہوا، جو پاکستانی ہندوستانی سوپ اوپیرا میں خاندانی بہو کا ہوتا ہے۔ کوئی زیور بیچ کر گزارا کر رہے، کوئی ہوٹل کھولے بیٹھے ہیں، کوئی ہیلی کاپٹر سے گر کر مرگئے، کسی کو انگلستان اپنے پرکھوں کی ریاست سے زیادہ پیارا لگا، تو کسی نے نوٹنکی شروع کر دی۔

یہ تو ہوا انجام ان دیسی ریاستوں کا جو ان دونوں بڑی مچھلیوں کے آس پاس اپنی آزاد حیثیت میں رہنا چاہتی تھیں۔ کشمیر نامی روپہلی مچھلی آدھی ایک کے جبڑے میں آئی، آدھی دوسرے کے۔ کشمیری پنڈتوں کی داستان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایک پوری نسل، جس نے آزادی کے لیے بے شمار جدوجہد کی یہ غم ساتھ لیے اس دنیا سے چلی گئی۔ دوسری نسل اس کشت و خون کو دیکھتے، دیکھتے بوڑھی ہوگئی۔ اب کشمیر میں تیسری نسل جوان ہو چکی ہے۔ اس نسل کو ورثے میں گولیاں، کرفیو، لاشیں، مظاہرے، تلاشیاں اور بدگمانیاں ملی ہیں۔ کشمیر کی زمین پہ اتنا خون بہا ہے کہ اب تو شاید نیلم کا پانی بھی چناب کی طرح خون رنگ ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دریائے جہلم انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے بہتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے

کشمیر کی حالیہ صورتِ حال سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ اب بات کرنا ہی پڑے گی۔ اوڑی کے واقعے کو بہانہ بنا کر، ایک دفعہ پھر اس زخم کو دھوئے بغیر ایک اور پٹی باندھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بات کشمیر یوں کی ہے، ان کے حقِ خود ارادیت کی ہے، جسے اقوامِ متحدہ تسلیم کر چکا ہے، ذکر ان پہ برسائی جانے والی گولیوں کا ہے، نوحہ ان آہو چشموں کا ہے، جن کی بینائی چھن گئی، واویلا اس وادی کا ہے جو جنتِ نظیر تھی مگر آج اپنے باسیوں کے لیے جہنم بن چکی ہے۔

اس سب صورتِ حال میں دو ملک اپنی اپنی فوج لے کر کہاں سے جنگ جنگ کھیلنے نکل آئے؟ دونوں کو یہ اختیار کس نے دیا کہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں، جی ہاں ! ہندوستان اور پاکستان، دونوں کی سابق تمام حکومتیں اور موجودہ قیادت بھی اس مسئلے کے حل میں نا کام ہیں اور اپنی نا اہلی کو جنگ کے پردے میں چھپانے کے لیے خواہی نا خواہی واویلا مچا رہی ہیں۔

کشمیر پہ بات کرنا ہو گی۔ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے، اس کی بات بعد میں ہوگی، کون پاکستان میں گھس کر مار رہا ہے اور کس نے ہندوستان میں گھس کر مارا، یہ آپ دو عظیم ایٹمی طاقتوں کے مسائل ہیں۔ آپ کے اداکاروں کو کون وہاں سے کھدیڑ رہا ہے اور آپ کے محبِ وطن عوام ’زندگی‘ کیوں دیکھ رہے ہیں؟ یہ سب آپ کے مسائل ہیں، آپ خود نمٹیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر پہ بات کرنا ہوگی۔ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے، اس کی بات بعد میں ہوگی

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہندوستان کا اٹوٹ انگ۔ اگر کسی کی شہ رگ میں ناسور ہو جائے اور اٹوٹ انگ میں سرطان پھیل جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ غالباً ان بیماریوں کا علاج۔ ہم نے تو کسی بیمار انسان کو آستینیں سونتے، کسی دوسرے بیمار کا گریبان پھاڑتے نہیں دیکھا۔ تو پھر مان جائیے کہ اگر سچے ہیں تو اس ماں کی طرح جو اپنی اولاد کو دو ٹکڑوں میں بٹتا نہیں دیکھ سکتی تھی اور اپنے حق سے دست بردار ہوگئی تھی آپ بھی کشمیریوں کی خاطر ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر یوں کا ہمدرد کون ہے اور یہ کس کا اٹوٹ انگ ہے، کیونکہ جس کو کشمیر کا درد ہے، جس کو برِصغیر کے کروڑوں انسانوں کا درد ہے، جسے انسانیت عزیز ہے وہ معقولیت کا ثبوت دیتے ہوئے اب بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ ورنہ کشمیر کا حال وہی ہو گا جو دو بندروں کے درمیان کھنچنے والی بندریا کا ہوتا ہے، ایک سر لے جائے گا دوسرا دھڑ۔ کشمیر پہ بات کیجیے، آپ دونوں عظیم طاقتوں کا شکریہ!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں