’انٹرنیٹ صارفین کے حقوق اور ڈیٹا کے تحفظ کا قانون ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption قمر نسیم کے مطابق ’اگرچہ پاکستان میں تین کروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کرے ہیں لیکن پاکستان میں پولیس تھانوں میں بیٹھے اہلکار اس قانون سے واقف نہیں ہیں

پشاور میں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے حقوق اور ان کے ڈیٹا کے تحفظ کا قانون بھی منظور کرایا جائے گا۔

سائبر کرائم بل یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ پر شروع سے ہی سول سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی۔ اس بارے میں مختلف فورمز پر مباحثے کیے گئے اور حکومت سے کہا گیا کہ اس میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی ضرورت ہے۔

٭ ’اب پاکستانی سوشل میڈیا سہما سہما رہے گا‘

اب اس قانون کو منظور کر لیا گیا ہے لیکن سول سوسائٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اخباری کانفرنس سے خطاب میں پختونخوا سول سوسائٹی کے رہنما قمر نسیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملک کے تمام بڑے شہروں میں سول سوسائٹی کے اراکین سے اس قانون پر رائے لی ہے اور اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد پر کڑی نظر رکھی جائے گی کہ اس قانون کے تحت کن لوگوں کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق اس قانون کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی وہ معلومات حاصل کر رہے ہیں اسی طرح وہ اس قانون کے تحت دیگر مقدمات پر کا ریکارڈ بھی حاصل کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption پشاور میں سول سوسائٹی کے اراکین نے سائبر کرائم کے قانون کی منظوری سے پہلے بھی اس قانون کی مخالفت کی تھی

انھوں نے اس قانون کے ان شقوں میں ترامیم کا مطالبہ کیا ہے جو انسانی حقوق سے متصادم ہیں اور کہا ہے کہ سول سوسائٹی پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے قانون سازی کے لیے کوششیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ سائبر کرائم میں صارفین کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا کہ آیا ان کا ڈیٹا محفوظ ہے یا نہیں اس لیے وہ کوشش کریں گے کہ ایک پرائیویسی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔

پشاور میں سول سوسائٹی کے اراکین نے سائبر کرائم کے قانون کی منظوری سے پہلے بھی اس قانون کی مخالفت کی تھی۔ ان اراکین کے مطابق یہ قانون آزدی رائے اور آزادی اختلاف رائے کے خلاف ہے۔

سول سوسائٹی کے اراکین نے اس فیصلے پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو سائبر کرائم ایکٹ کی تفتیش کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

قمر نسیم کے مطابق ’اگرچہ پاکستان میں تین کروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کرے ہیں لیکن پاکستان میں پولیس تھانوں میں بیٹھے اہلکار اس قانون سے واقف نہیں ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں