رائیونڈ مارچ پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تحریک انصاف کے احتجاج کے خلاف مقامی شہری عاطف ستار نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ رائیونڈ کے قریب احتجاج کے خلاف درخواست پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

ہائی کورٹ کا تین رکنی فل بینچ جمعرات 29 ستمبر کو درخواست پر فیصلہ سنائے گا۔

٭ رائیونڈ مارچ: لاہور ہائیکورٹ میں تین رکنی بینچ تشکیل

٭ ’پاناما میں چھپائے اربوں روپے کا حساب لیں گے‘

تحریک انصاف کے احتجاج کے خلاف مقامی شہری عاطف ستار نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو رائیونڈ میں احتجاج سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر بدھ کو سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس انوارالحق اور جسٹس قاسم خان شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ کے حکم پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے بارے میں سکیورٹی پلان پیش کیا اور بتایا کہ سات ہزار سے زائد پولیس اہلکار احتجاج کی سکیورٹی کے لیے مامور کیے گئے ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد حمید ڈار نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران ٹریفک کی روانی کو کس طرح برقرار رکھا جائے گا اور اس بات کو کس طرح یقینی بنایا جائے کہ راستے بند نہ ہوں۔

بینچ نے افسوس کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف کی گذشتہ احتجاجی ریلی کے دوران راستے بند تھے اور اسی وجہ سے اموات بھی ہوئیں۔

تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے بینچ کو بتایا کہ ان کی جماعت کی ریلی کے دوران حکومت نے راستے بند کیے تھے جن کی ضرورت نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر بدھ کو سماعت کی

احمد اویس نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی جماعت کا احتجاج پرامن ہو گا اور آئین کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ نے درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی تحریک انصاف کا احتجاج پرامن نہیں رہا اور کارکنوں نے سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ پرامن احتجاج کی حدود کیا ہیں تحریک انصاف اس کا تعین کرے۔

ہائی کورٹ کے فل بینچ نے تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ احتجاج کس لیے کیا جا رہا ہے تو وکیل نے جواب دیا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

جسٹس شاہد حمید ڈار نے تحریک انصاف کے وکیل کو باور کرایا کہ سپریم کورٹ کے روبرو پاناما لیکس کے معاملے پر درخواست زیر سماعت ہے اس لیے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرلینا چاہیے۔

تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے واضح کیا کہ پاناما لیکس کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے جو پرامن ہو گا۔

ان کے بقول ماضی میں وکلا نے چیف جسٹس کی بحالی کے لیے ملک گیر احتجاج کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تقاریر سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم کا خطرہ ہے اس لیے عمران خان کو رائیونڈ مارچ اور احتجاج سے روکا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں