کوہاٹ اور پشاور میں پولیس اہلکاروں پر حملے، دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پشاور میں بھی پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا ہے دارالحکومت پشاور اور ضلع کوہاٹ میں پولیس پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

٭ چارسدہ پولیس موبائل پر حملہ

٭پشاور حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک

پولیس کے مطابق پہلا حملہ بدھ کی صبح کوہاٹ شہر کے علاقے بنوں بازار میں ایک امام بارہ گاہ کے سامنے اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے وہاں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

کوہاٹ پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار رضا علی کا تعلق اہل تشیع مسلک سے تھا اور وہ گذشتہ کچھ عرصہ سے رضویہ امام بارگاہ کی حفاظت پر مامور تھے۔

انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے بعد ملزمان جائےِ وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ادھر صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پشاور کے مضافاتی علاقے خزانہ میں ہندکو دامن کے مقام پر پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو اطلاع تھی کہ ایک حجرے میں کچھ جرائم پیشہ افراد نے پناہ لے کر رکھی ہے جس پر وہاں چھاپہ مارا گیا۔ تاہم پولیس کے پہنچتے ہی مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

یاد رہے کہ پشاور اور آس پاس کے اضلاع میں گذشتہ چند ہفتوں سے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی آئی ہے ان حملوں میں اب پولیس اور خفیہ اداروں کے افسران سمیت درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ماضی میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں