سندھ طاس معاہدے سے ’یکطرفہ طور پر علیحدہ نہیں ہوا جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان اتفاق رائے سے طے پایا تھا اور کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو اس معاہدے سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔

وزیر اعظم نے یہ بات اسلام آباد میں بدھ کے روز ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھرپور اشتعال انگیزی کے باوجود بےمثال تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ پر امن جنوبی ایشیا کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

اس اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی ملٹری آپریشنز، قومی سلامتی کے امور کے مشیر ناصر جنجوعہ سمیت دیگر سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

وزیر اعظم نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان سندھ طاس معاہدہ ورلڈ بینک نے 1960 میں کرایا تھا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے پانی کی تقسیم پر پاکستان کے ساتھ معاہدے پر نظرِ ثانی کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ’خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘

اجلاس میں قومی اور علاقائی کی سکیورٹی پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بڑھتی ہوئی منظم طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور انڈین سکیورٹی فورسز کی ’بربریت‘ کی مذمت کی گئی۔

وزیر اعظم نوز شریف نے کہا کہ اپنے حق خود ارادیت کے لیے جد و جہد کرنے والے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

’کشمیری نہ صرف پاکستان کی مدد کے مستحق ہیں بلکہ پوری دنیا کی حمایت کے مستحق ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں