عدالتی حکم پر واحد بلوچ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے آئندہ سماعت یعنی 23 اکتوبر کو رپورٹ پیش کرے

کراچی میں پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر دو ماہ قبل لاپتہ ہونے والے بلوچ سماجی کارکن واحد بلوچ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

یہ مقدمہ گڈاپ تھانے میں بدھ کو واحد بلوچ کی صاحبزادی ہانی بلوچ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

٭ سماجی کارکن عبدالواحد بلوچ کی ’جبری گمشدگی‘

جسٹس نعمت اللہ ہالیپوٹو کی سربراہی میں قائم سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کو پولیس کو پابند کیا تھا کہ وہ واحد بلوچ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرے تاہم عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامہ ملنے میں تاخیر کی وجہ سے منگل کو یہ مقدمہ درج نہیں ہو سکا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے آئندہ سماعت یعنی 23 اکتوبر کو رپورٹ پیش کرے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے صوبائی وائس چیئرمین اسد اقبال بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم اور سول سوسائٹی کے کئی اراکین متاثرہ گھرانے کے ساتھ تھانے میں مقدمے درج کروانے پہنچے تاہم پولیس نے لیت و لعل سے کام لیا۔

پولیس کی کوشش تھی کہ یہ مقدمہ خفیہ ایجنسیوں کی بجائے نامعلوم افراد کے خلاف درج ہو جائے اسی لیے تین گھنٹے کی کوشش کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔

گڈاپ تھانے کے انچارج خان نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ مقدمہ ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا ہے۔

واحد بلوچ کی صاحبزادی ہانی بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ 26 جولائی کو ان کے والد اپنے دوست صابر علی صابر کے ساتھ ڈگری سے کراچی آ رہے تھے کہ ٹول پلازا پر دو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے انھیں روکا اور ان کی وین میں داخل ہو کر ان کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد انھیں گاڑی سے اترنے کا کہا۔

ہانی بلوچ کے مطابق انھیں یہ ساری روداد اپنے والد کے دوست صابر علی صابر سے معلوم ہوئی۔

ہانی بلوچ نے بتایا کہ انھوں نے اعلیٰ حکام کو کئی درخواستیں دیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے بعد انھوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دو مہینے تو ایف آئی آر درج ہونے میں لگ چکے ہیں اور اب بھی اس کا اندراج ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔

اس سے پہلے عدالت ِ عالیہ میں واحد بلوچ کیس کے وکیل صلاح الدین اور ریحان کیانی ہانی بلوچ کی مدعیت میں پولیس اور رینجرز کو واحد بلوچ کی گمشدگی کیس میں فریق بنایا تھا۔

پولیس اور رینجرز نے موقف اختیار کیا تھا کہ واحد بلوچ ان کے پاس نہیں ہیں۔

وکلا کے مطابق پولیس نے واحد بلوچ کے اہلِ خانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے بھی انکار کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں