BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2003, 12:43 GMT 16:43 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
چیف جسٹس کا ’دماغی معائنہ‘
 

 
لاہور ہائی کورٹ کی عمارت
لاہور ہائی کورٹ کی عمارت

ایسوسی ایشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ احتجاج کے طور پر کوئی وکیل چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔

جمعہ کی صبح لاہور ہائی کورٹ کی رٹ برانچ میں چار وکلاء کا مجاہد نامی ایک کلرک سے کسی فائل کے نہ دکھائے جانے پر جھگڑا ہوگیا۔ وکلاء نے کلرک سے ہاتھاپائی کی جس سےکلرک بری طرح زخمی ہوگیا۔

عدالت عالیہ کے رجسٹرار مقصود الحسن اور دوسرے افسران جب وہاں پہنچے اور زخمی کلرک اور چار وکلاء کو لے کر ایڈیشنل رجسٹرار کے کمرے میں گۓ جہاں حفاظتی عملہ اور پولیس طلب کی گئی۔

اس دوران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حافظ عبدالرحمٰن انصاری اور دوسرے عہدیدار اس کمرے کے باہر پہنچ گۓ اور انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا اور دروازہ نہ کھلنے پر زبردستی کھول دیا۔

زخمی کلرک کو طبی امداد کے لیے روانہ کردیا گیا اور چیف جسٹس نے واقعہ کی اطلاع ملنے پر رجسٹرار کو قانونی چارہ جوئی کی ہدایت کی۔

بار کے صدر تقریباً سو وکلاء کا جلوس لے کر چیف جسٹس افتخار چوہدری سے ملاقات کرنے گۓ۔

چیف جسٹس اپنے چیمبر میں داخل ہورہے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں تعینات حفاظتی عملے سے کہا کہ وکلاء کو ان کے دفتر میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

ان کے اس حکم پر وکلاء مشتعل ہوگئے اور انہوں چیف جسٹس کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔

اس موقع پر رجسٹرار اور وکلاء میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ بار کے صدر کاظم خان نے رجسٹرار سے کہا کہ وہ معاملہ سلجھانے کے لیے خود چل کر چیف جسٹس کے پاس آۓ تھے اور چیف جسٹس کو ان کی بات سننی چاہیے۔

دوسری جانب درجنوں کلرک ہائی کورٹ کے احاطہ میں جمع ہوکر اپنے ساتھی کے زخمی کئے جانے پر وکلاء کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ جب وکلاء ان کی جانب لپکے تو کلرکبھاگ کھڑے ہوئے۔

وکلاء چیف جسٹس کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے عدالت کے کیانی ہال میں داخل ہوئے جہاں بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس کا اجلاس منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں چیف جسٹس کے خلاف قرار داد منظور کی گئی جس میں ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی۔

وکلا کا کہنا تھا کہ ایڈشنل رجسٹرار کے کمرے میں چار وکلاء کو بند کرکے حبس بے جا میں رکھا گیا ہے اور وکلاء کی بے عزتی کی گئی اس لیے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے اور رجسٹرار کو ان کے عہدے سے فوری طور پر ہٹایا جائے۔

پاکستان با رکونسل کے رکن کاظم خان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں وکلاء کی اتنی بے عزتی کبھی نہیں ہوئی جتنی آج چیف جسٹس نے کی کہ بار اسیوسی ایشن کے عہدیدار خود ان سے ملنے گئے اور چیف جسٹس نے وکلاء کو کہا ’گیٹ آؤٹ۔‘

انہوں نے کہا کہ وکلاء اس بے عزتی کو بھولیں گے نہیں اور ان کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

وکلاء نے اس معاملہ پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے آٹھ ستمبر ایک اور اجلاس بلایا ہے۔

ہائی کورٹ کے سرکاری ترجمان کی طرف سے اس واقعہ کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور بار ایسوسی ایشن کے درمیان لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) اور حکومت کی حمایت کے مسئلہ پر بھی شدید اختلاف ہے۔ بار ایل ایف او اور جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف جدوجہد کررہی ہے جبکہ چیف جسٹس اس کی حمایت میں بیان دے چکے ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد