BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2003, 14:58 GMT 18:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی میں توڑ پھوڑ اورگرفتاریاں
 
کراچی ہلاکتیں
کراچی میں پہلے بھی فرقہ وارانہ ہلاکتیں ہوئی ہیں

کراچی میں جمعہ کو سپارکو کی بس پر کیے گئے حملے کا شکار ہونے والے ایک شخص کو جب شہر کے وسطی ضلع میں دفن کیا گیا تو شہر کے کچھ حصے میں مشتعل ہجوم کا احتجاج دیکھنے میں آیا۔ جمعہ کو پیش آنے والے واقعہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں چار کا تعلق مسلمانوں کے شیعہ فرقہ سے تھا۔

لوگوں نے پٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچایا اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو اشک آور گیس استعمال کرنی پڑی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً تیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بس پر حملے کا شکار ہونے والے تین افراد کو کراچی شہر میں مختلف مقامات پر دفن کیا گیا ہے جبکہ باقی تین لاشوں کو سنیچر کے روز ان کے آبائی شہر روانہ کر دیا گیا ہے۔

یہ چھ افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب کراچی کے مغربی حصے میں نامعلوم مسلح افراد نے چالیس افراد کو جمعہ کی نماز کے لیے مسجد لے جانے والی ایک بس پر حملہ کر دیا۔

حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک شیعہ مسلم شخص کا جنازہ جب رضویہ سوسائٹی سے اٹھایا گیا تو لوگوں نے مشتعل ہو کر تین پیٹرول پمپوں، چند موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے علاوہ تیل کے ایک ٹینکر، ایک بس، کئی دکانوں اور ایک پولیس چوکی کو نقصان پہنچایا۔

موقع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل طارق جمیل کے مطابق تقریباً تیس افراد کو بدامنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ٹریفک گھنٹوں معطل رہی اور جنازہ نیم فوجی رینجرز اور پولیس دستے کی حفاظت میں قبرستان پہنچا۔

البتہ کراچی میں ہی دفنائے جانے والے باقی دو افراد کی تدفین پرامن رہی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تفتیش کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔

پاکستان اور کراچی میں گزشتہ تقریباً دس برس کے دوران کئی ہزار لوگ فرقہ وارانہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

کراچی میں اگست کے مہینے میں تبلیغی جماعت سے وابستہ پانچ بھائیوں، ایک شیعہ مسلم اور ایک سنی مسلم ڈاکٹر کو ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن ابھی تک قاتلوں کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد