BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2003, 01:03 GMT 05:03 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مختلف شہروں میں کشیدگی
 

 
مولانا اعظم طارق
اس سے پہلے بھی مولانا اعظم طارق پر تین مرتبہ قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں

مولانا اعظم طارق کی ہلاکت کے بعد لاہور اور جھنگ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں کشیدگی کی فصا پائی جاتی ہے۔

مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مولانا اعظم طارق کی ہلاکت کی خبر ملنے پر احتجاجی مظاہروں کو جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ رات گئے تک جاری رہا۔

دوسری طرف کالعدم تنظیم کے مرکزی قائدین نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مولانا اعظم طارق کے جنازے کے موقع پر جاری کئے جانے والے پالیسی اعلان کا انتظار کریں۔

لاہور میں رات گئے تک شہر کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ فیروزپور روڈ پر جامعہ اشرفیہ کے سامنے، ملتان روڈ پر چوک یتیم خانہ اور راوی روڈ پر کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے درجنوں لٹھ بردار کارکنوں نے ٹائر جلا کر ٹریفک روکے رکھی۔

وہ صدر پرویز مشرف اور وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس موقع پر پولیس کے بھاری نفری تعینات تھی لیکن پولیس نے مظاہرے کے دوران مداخلت نہیں کی۔

سپاہ صحابہ کے گڑھ جھنگ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں خوف ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔ نماز مغرب کے بعد جب مسجد حق نواز جھنگوی میں مولانا اعظم طارق کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا تو بازار بند ہوگئے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں سے بسوں اور ویگنوں کو ہٹا لیا گیا اور رات گئے تک وہاں کرفیو کا سا سماں تھا۔ چند ایک مقامات پر پتھراؤ کی اطلاع بھی ملی ہے جبکہ امام بارگاہوں، مساجد اور پٹرول پمپوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مجیب الرحمٰن انقلابی نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مولانا اعظم طارق کے جنازے پر مرکزی قائدین کی طرف سے آئندہ لائحہ عمل کے اعلان تک کسی بھی اقدام سے باز رہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار کے مطابق مولانا اعظم طارق کی ہلاکت کے شہر میں سیکیورٹی سخت دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی چوکسی کی حالت میں ہیں۔

کراچی کے ڈی آئی جی طارق جمیل کا کہنا ہے کہ مسجدوں اور امام بارگاہوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے اور اہم شیعہ اور سنی رہنماؤں کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔

کراچی کے چند علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور ہلاکت کی خبر پہنچنے پر نارتھ کراچی کے چند علاقوں میں دوکانیں بند کر دی گئیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد