BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2003, 12:29 GMT 16:29 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مولانا کے خلاف مقدموں پر ایک نظر
 

 
مولانا اعظم طارق

پیر کے روز سلام آباد میں قتل ہونے والے ملت اسلامیہ نامی جماعت کے سربراہ مولانا اعظم طارق فرقہ وارانہ قتل کے متعدد مقدمات میں نامزد تھے جن میں وہ ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔

اکتالیس سالہ مولانا اعظم طارق نے چھ سال جیل میں گزارے اور ان کے خلاف پینسٹھ مقدمے درج ہوئے جن میں اٹھائیس کا تعلق دہشت گردی کے قانون سے تھا۔

جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے مولانا اعظم طارق کو سن انیس سو اکیانوے میں طالبان حکومت پر امریکہ کے حملہ کے بعد طالبان اور القاعدہ کی حمایت میں جلسے جلوس کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ انھیں جھنگ سے انتخاب جیتنےکے بعد تیس اکتوبر سن دو ہزار دو میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔

مولانا اعظم طارق نے نواز شریف کے دوسرے دور میں تقریباً چار سال جیل میں گزارے۔ انھیں دس جنوری انیس سو چھیانوے کو ایس ایس پی پولیس اشرف مارتھ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور سن دو ہزار میں رہا کیا گیا تھا۔

مولانا اعظم طارق پر سب سے اہم مقدمہ شیعہ تنظیم امامیہ آگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی کے قتل کا تھا جنھیں انیس سو پچانوے میں لاہور میں یتیم خانہ چوک میں قتل کردیا گیا تھا۔

ایک اور مقدمہ جھنگ میں انیس سو ستانوے میں چھ افراد کے قتل سے متعلق تھا۔

تیسرا مقدمہ اسی سال دو افراد کے بہاولپور میں قتل سے متعلق تھا۔ اعظم طارق پر نومبر انیس سو پچانوے میں ایک باپ اور بیٹے کو قائم والا، ضلع بہاولپور میں قتل کرنے کا یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج بہاولپور کی عدالت میں چل رہا تھا۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں بھی مولانا اعظم طارق پر جون سن دو ہزار دو میں مبینہ طور پر دو قابل اعتراض کتابیں شائع کرنے پر لاہور کینٹ کی پولیس کی شکایت پر درج مقدمہ چل رہا تھا۔

حکومت پنجاب نے ایک درخواست دی ہوئی تھی جس میں یہ موقف اختیارکیا گیا تھا کہ ان کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان سے ہے اس لیے وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے اہل نہیں۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جو اب ان کے مرنے سے خود بخود ختم ہوجاۓ گا۔

مولانا اعظم طارق نے سپاہ صحابہ پر پابندی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی ہوئی تھی جس کی پیروی اب اس تنظیم کے دوسرے عہدیدار کریں گے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد