BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بلوچستان اسمبلی کی ’وہ‘ ایک قرارداد
 

 
بلوچستان اسمبلی کی عمارت

بلوچستان اسمبلی نے ایک ایسی قراداد کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت اور سرکاری اداروں کو پابند کیا جائے کہ بلوچستان اسمبلی کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

بظاہر یہ ایک ایسا آئینی اور قانونی داؤ پیچ ہے جس کو سال کے آخری پارلیمانی اجلاس میں کامیابی کے ساتھ آزمایا گیا ہے۔ اس کے تحت بلوچستان اسمبلی میں منظور ہونے والی تمام تحاریک، قراردادیں اور سفارشات بے اثر ہو سکتی ہیں۔

ان میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور فرنٹیئر کور کی چوکیوں کے خلاف متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادیں بھی شامل ہیں۔

سب پر بھاری قرارداد
 
اس قرارداد سے فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور فرنٹیئر کور کی چوکیوں کے خلاف متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادیں غیر مؤثر ہو سکتی ہیں۔
 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریک کے محرکین میں حزب اختلاف کے اراکین کے علاوہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر صحت حافظ حمداللہ بھی شامل تھے جبکہ اس کی مخالفت میں بھی مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع پیش پیش رہے ہیں۔

 

 اس قرارداد کے بعد بلوچستان اسمبلی سے منظور شدہ تمام سفارشات اور قراردادیں بے اثر ہو گئی ہیں۔

قائد حزب اختلاف

 

قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈوکیٹ نے سوموار کو اپنے چیمبر میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ اب اس قرارداد کے بعد بلوچستان اسمبلی سے منظور شدہ تمام سفارشات اور قراردادیں بے اثر ہو گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم ایک طرف وفاق سے فنڈز کا مطالبہ کرتے ہیں، قومی مالیاتی کمیشن سے بلوچستان کے زیادہ حقوق کے لیے قراردادیں منظور کرواتے ہیں، اب اس کے بعد ہماری اپنی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ہم بلوچستان اور بلوچستان کے لوگوں کے کتنے ہمدرد ہیں۔‘

اس بارے میں جب مولانا عبدالواسع سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگر کسی قرارداد پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے تو اس بارے میں تحریک استحقاق پیش کی جا ستکی تھی قرارداد نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس قرارداد کے مسترد ہونے کے بعد چھاؤنیوں کے بارے میں قراداد بھی بے اثر ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کو ایسی قرارداد پیش ہی نہیں کرنا چاہیئے تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرارداد ان قوتوں کے کہنے پر پیش کی گئی تھی جو چھاؤنیوں کے بارے میں قرارداد سے خوش نہیں تھے۔

فوجی چھاؤنیاں
 
سنیچر کے روز ختم ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان کے تین اضلاع میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور فرنٹیئر کور کی چوکیوں کے خلاف ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی جس کے بعد یہ خبریں مسلسل گشت کرتی رہیں کہ اس قرارداد کو واپس لے لیا جائے گا۔ وزیر اعلی بلوچستان جام یوسف نے بھی اس قرارداد کی منظوری کے بعد کہا تھا کہ یہ قرارداد غلطی کی وجہ سے منظور ہوئی ہے۔ آئندہ اس طرح نہیں ہوگا اور یہ بھی کہا تھا کہ چھاؤنیاں ہر حالت میں بنیں گی۔
وزیر اعلی
 

سیکرٹری بلوچستان اسمبلی محمد خان مینگل نے بتایا ہے کہ موجودہ بلوچستان اسمبلی پارلیمانی سال کے ستر دن پورے کرنے والی پہلی اسمبلی ہے جس میں چھیاسی قراردیں موصول ہوئیں اور اکتیس ایوان میں منظور ہوئی ہیں۔ اسی طرح سولہ تحاریک نمٹائی گئی ہیں اور کوئی دو سو سوالات کیے گئے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اب اس قرارداد کے بعد بلوچستان اسمبلی کس طرح مرکز سے مطالبات یا سفارشات منظور کروا سکے گی جن میں قومی مالیاتی کمیشن سے رقبے کے حوالے سے حقوق طلب کرنا، گیس کی رائلٹی اور ترقیات کی مد میں اضافی فنڈز مانگنا اہم ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کے سنیچر کے روز ختم ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان کے تین اضلاع میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور فرنٹیئر کور کی چوکیوں کے خلاف ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی جس کے بعد یہ خبریں مسلسل گشت کرتی رہیں کہ اس قرارداد کو واپس لے لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام یوسف نے بھی اس قرارداد کی منظوری کے بعد کہا تھا کہ یہ قرارداد غلطی سے منظور ہوئی ہے۔ آئندہ اس طرح نہیں ہوگا اور یہ بھی کہا تھا کہ چھاؤنیاں ہر حالت میں بنائی جائیں گی۔

یہاں مبصرین اس قرارداد کو آخری دن پیش کرنے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں جن میں حزب اختلاف کے اراکین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ محض دباؤ کی وجہ سے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین نے یہ داؤ پیچ آزمائے ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد