BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2003, 07:49 GMT 12:49 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بے نظیر بھٹو کی سزا پھر کالعدم
 

 
بے نظیر کے خلاف یہی مقدمہ احتساب عدالت میں بھی زیر سماعت ہے
بے نظیر کے خلاف یہی مقدمہ احتساب عدالت میں بھی زیر سماعت ہے
 

جنیوا میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی درخواست پر پولیس ٹریبونل نے مبینہ بدعنوانی کے الزامات میں سوئس اٹارنی کی طرف سے سابق وزیر اعظم اور ان کے شوہر کوسنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سوئس اٹارنی کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کو پولیس ٹریبونل نے کلعدم قرار دے دیا ہے اور یہ مقدمہ اب جرنل اٹارنی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ اسی مقدمے میں بے نظیر بھٹو کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے کو کلعدم قرار دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے اسی مقدمہ میں پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے بے نظیر بھٹو کے خلاف سزا سنائی تھی جسے بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کلعدم قرار دتیے ہوئے ججوں کو ہدایت نامہ بھی جاری کیا تھا اور اسی وجہ سے دو ججوں کو اپنے عہدوں سے سبکدوش بھی ہونا پڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا تھا کہ احتساب عدالت کے ججوں کا بے نظیر بھٹو کے خلاف جھکاؤ بہت واضح اور عیاں ہے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا سوئس جرنل اٹارنی یا توپولیس ٹریبونل کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مقدمہ خارج کر سکتا یا پھر اس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر سکتا ہے۔

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کو سوئس عدالت نے اس سال اگست میں بدعنوانی اور منی لانڈرِنگ (یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کا عمل) کے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔

سوئس عدالت نے ان دونوں کو پچاس ہزار ڈالر جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم یہ معطل فیصلہ تھا اور اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کی گنجائش تھی۔

اس عدالت کے جج دانئیل دیو نے اپنے فیصلے میں سوئس حکام سے کہا تھا کہ سوئس بینکوں میں سات مختلف بینک اکاؤنٹس میں محفوظ رقم کو اب پاکستانی حکومت کے حوالے کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان اکاؤنٹوں میں تقریباً تیرہ مِلین ڈالر جمع ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد