BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2004, 22:02 GMT 03:02 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بھٹو کی پھانسی کی سزانہیں بنتی تھی‘
 

 
 
سپریم کورٹ کے ججوں پر کڑی تنقید کی گئی
سپریم کورٹ کے ججوں پر کڑی تنقید کی گئی
سپریم کورٹ بار ایسوایشن کے صدر طارق محمود نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کا ایک سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں اپنے فیصلے پر شرمندہ نظر آتا ہے لیکن وہ ایک فوجی آمر کے دبا‍‎‎ؤ میں ملک کے وزیر اعظم کے " عدالتی قتل" میں حصہ دار بنا۔

انہوں نے کہا کہ آج نسیم حسن شاہ کہتے ہیں کہ ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا نہیں بنتی تھی لیکن خود پھانسی کی سزا کی حمایت کی۔

ان خیلات کا اظہار طارق محمود نے سپریم کورٹ میں جمعہ کو جسٹس تنویر احمد خان کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس کے موقع پر کیا۔

سپریم کورٹ نے فوجی اقتدار کو جائز قرار دینے کے بعد جمعہ کو پہلی مرتبہ کسی سپریم کورٹ جج کی رٹیائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس کی روایت کو بحال کیا ہے۔

اس سلسلے میں جمعہ کو جسٹس تنویر احمد خان کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوا اور اس موقع پر وکلا کے نمائندوں کو ایک طویل عرصے کے بعد موقع ملا کہ وہ عدلیہ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔

سترھیويں ترمییم کی منظوری کے بعد دس ججوں کی عدلیہ سے رخصتی کے بعد سپریم کورٹ کی نئ قیادت نے فل کورٹ ریفرنس کی روایت کو بحال کیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود نے مزید کہا کہ لوگوں کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ گیا ہے ان کا خیال ہے کہ پاکستان کی عدلیہ اب انصاف کی فراہمی کا فریضہ سر انجام نہیں دے سکتی کیونکہ اس نے فوجی حکمران کے تمام اقدامات کو راست قرار دیتے دتیے اپنی آزادی گنوا دی ہے۔

طارق محمود نے کہا وکلا تنظیمں عدلیہ سے مطالبہ کرتی رھی ہیں کہ فوجی حکومت کی طرف سے دیئے گئے مدت ملازمت میں تین سال کے اضافے کا تحفہ قبول نہ کرئے لیکن عدلیہ کی ان کی بات نہ مانی اور پھر فوجی آمر نے وہ ان سے وہ تحفہ واپس لے لیا۔ اس نے کہا عدلیہ سے جس طرح مدت ملازمت میں توسیع واپس لی گئ ہے وہ باعث شرم ہے۔

طارق محمود نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ نے پچھلے چار سالوں میں اپنی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر لی ہے۔

اس نے کہا ایک وہ وقت تھا جب ملک کے پہلے چیف جٹسس عبدالرشید نے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ساتھ کسی قسم کے میل جول کو بھی قبول نہیں کیا اور آج یہ وقت آ گیا کہ جج نہ صرف حکومتی عہدایدروں کے ساتھ میل میلاپ رکھتے بلکہ انہیں اپنے خاندان کی تقریبات میں بھی مدعو کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد نے پاکستان لا کمشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ ملک میں شادی کے موقع پر ایک سے زیادہ کھانے پیش کرنے کی ممانت ہو لیکن جب اپنی بیٹی کی شادی ہوئی تو اس نے خود مہمانوں کو توضع کئی کھانے پیش کر کے کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کی عدلیہ کے نمائیدے اپنے کسی ذاتی کام کے لیے ایسے سرکاری دورے بنا لیتے ہیں کہ جس کے دوران وہ اپنے ذاتی کام کرتے ہیں لیکن وسائل سرکاری استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ملک میں جمہوریت کے نہ پنپنے میں عدلیہ کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ اس نے ہر آنے والے فوجی آمر کے اقدامات کو جائز قرار دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اگر جسٹس منیر جنرل ایوب خان کے مارشل لا کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار نہ دیتے تو آج ملک کا نقشہ یہ نہ ھوتا۔

انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے فوجی امریت کا نتیجہ انیس سو اکہتر میں نظر آیا جب ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین قاضی محمد انور نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ نے ہر فوجی آمر کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ان کو قانون سازی تک کے اختیار دے دیا۔ اس نے کہا کہ یہ بات ملک کے وکلا کی سمجھ سے باہر ہے کہ عدلیہ ایسا اختیار جو آئین نے اس کو نہیں دیا وہ ایک فوجی آمر کوکیسے تقویض کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلی ترین عدالت نے ہمیشہ قوم کو مایوس کیا اور ایک خیال پایا جاتا ہے کہ پہلی دفعہ نظریہ ضرروت ایجاد کرنے والے ججوں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے فوجی آمر کا اگر محاسبہ ھوتا تو آج ملک میں فوجی حکمرانی نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی وکلا براداری کا خیال ہے کہ ملک میں فوجی طالع آزما‌ؤں سے بچانے کے لیے آئین کے دفعہ چھ کے تحت ملک سے ‏غداری کا مقدمہ چلنا ضرور چلنا چاہیۓ۔ اس نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ایسے بادشاہ جس نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی کو قبر سے نکال کر اس پر مقدمہ چلایا گیا تھا اور اس کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

نئے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی اور اس تیرہ دوسرے ججوں نے وکلا کے نمائیدوں کی جلی کٹی باتیں حوصلہ کے ساتھ سنیں ۔ چیف جسٹس نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ عدلیہ اور وکلا میں مخاصمت ‏غلط فہمی کا نتیجہ تھی اور اس کواب بھلا دیا جانا چاھیے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد