BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2004, 14:44 GMT 19:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جسٹس نسیم کے خلاف درخواست
 

 
ذولفقار علی بھٹو

لاہور ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان نسیم حسن شاہ پر سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو مقدمہ کے مبینہ عدالتی قتل سے متعلق ایک آئینی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور میں پیپلز لائیرز فورم کے ایک وکیل حنیف طاہر نے دو ہفتے پہلے ایک آئینی درخواست ہائی کورٹ میں دائر کی تھی کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کے خلاف سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا جاۓ۔

نسیم حسن شاہ بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے ججوں میں شامل تھے۔

درخواست کی بنیاد جسٹس نسیم حسن شاہ کا اپنا بیان بنا ہے
 

اس اعتراض کے خلاف مدعی نے ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا اور آج عدالت عالیہ کے جج ثاقب نثار نے اس آئینی درخواست کو اعتراض کی درخواست کے طور پر سنا اور اعتراض کو غیر قانونی قرار دے کر فیصلہ دیا کہ اس آئینی درخواست کی ہائی کورٹ میں باقاعدہ سماعت شروع کی جاۓ۔

درخواست گزار نے آج عدالت عالیہ سے کہا کہ اس نے یہ درخواست آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت ایف ائی آر درج کرانے کے لیے دائر کی ہے اور آئین کے تحت ہائی کورٹ کا دائرہ اختیا رہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے اور اس کے لیے سپریم کورٹ جانا ضروری نہیں ہے۔

اصل آئینی درخواست میں درخواست گزار نے جسٹس نسیم حسن شاہ کے حالیہ انٹرویو کو بنیاد بنایا ہے جس میں نسیم حسن شاہ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں ججوں پر دباؤ تھا جس کے تحت انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔

نسیم حسن شاہ نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مولوی مشتاق کو یہ مقدمہ نہیں سننا چاہیے تھا کیونکہ ان کی بھٹو سے ذاتی دشمنی تھی۔

درخواست گزار نے نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوۓ عدالتی عالیہ سے کہا ہے کہ نسیم حسن شاہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ بھٹو کا مقدمہ میں شک کا فائدہ انھیں ملنا چاہیے تھا اور یہ مقدمہ نرم سزا کے لیے موزوں تھا۔

درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ بھٹو کے وکلاء نے عدلیہ کے ججوں کو ناراض کردیا تھا اور یہ بھی ان کے خلاف فیصلہ کی ایک وجہ تھی۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ججوں کی ناراضگی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے سزا دینے کے لیے اور یہ انصاف کے منافی ہے۔

ان بنیادوں پر انھوں نے ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ جو بھٹو کو قتل کےمقدمے میں سزا دینے والے ججو ں میں شامل تھے، کے خلاف عدالتی قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد