BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 March, 2004, 10:01 GMT 15:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ جاری
 

 
 
۔
رکن قومی اسمبلی ظفر اقبال وڑائچ
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رکن قومی اسمبلی ظفر اقبال وڑائچ نے پارٹی پالیسی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اپنی نشست سے استفیٰ دے دیا ہےـ

قومی اسمبلی کے حلقہ 196 رحیم یار خان سے منتخب رکن اسمبلی ظفر اقبال ورائچ نے ڈرامائی انداز میں منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سپیکر کو استعفٰی پیش کیاـ

پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی عبداللہ مراد کے قتل کے خلاف جب جمہوریت کی بحالی کے اتحاد (اے آر ڈی ) کے رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں بحث کرنا چاہی اور سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی تو اے آر ڈی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

ظفر اقبال نے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا اور ایوان میں بیٹھے رہے۔ انہوں نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ وہ پیپلز پارٹی ضلع رحیم یار کے صدر ہیں اور 20 سال سے پارٹی کے لئے قربانی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک سال سے احتجاج بھی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پارٹی اُن پر شک کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کی احتجاجی پالیسی اور ان پر پارٹی کی بےاعتمادی کے باعث احتجاجاً مستعفٰی ہو رہے ہیں۔

انہوں نے سپیکر سے اپیل کے کہ ان کا استعفٰی قبول کیا جائے جس کے بعد سپیکر نے استعفٰی وصول کر کے قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔

ظفر وڑائچ کے استعفٰی پر سرکاری بنچوں کے ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا جبکہ بعض ارکان نے استعفٰی دینے سے ان کو روکا۔

اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ظفر وڑائچ نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو بھی ان کو استعفٰی واپس لینے کا کہیں تو بھی وہ ایسا نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دیگر جاگیرداروں کی طرح وفاداری تبدیل کرسکتے تھے لیکن جمہوری اصولوں کی خاطر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ظفر وڑائچ اتنے ہی جمہوریت پسند تھے تو پارٹی قیادت کو استعفٰی دیتے، اسمبلی میں تماشا کر کے سرکاری ارکان سے داد وصول نہ کرتے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ظفر اقبال وڑائچ سے کئی مرتبہ حکومتی نمائندوں نے رابطہ کر کے وفاداری تبدیل کرنے کو کہا تھا۔

واضع رہے کہ پیپلز پارٹی کے اب تک 21 ارکان قومی اسمبلی وفاداری تبدیل کر چکے ہیں اور ظفر اقبال کے استعفے کے بعد ان کی تعداد 22 ہوگئی ہےـ ایوان میں اب پی پی پی کے 58 ارکان رہ گئے ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد