BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 02 April, 2004, 07:28 GMT 12:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
میلہ چراغاں کے کئی رنگ
 

 
 
میلہ چراغاں
شالا مار باغ کی تخریب کو مد نظر رکھتے ہوئے میلے کو اب جی ٹی روڈ اور باغبانپورہ تک محدود کر دیا گیاہے
شہر لاھور ہمیشہ سے ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور یہاں پر منعقد ہونے والے کچھ میلے اور تہوار ایسے ہیں جوسینکڑوں سالوں سے اس سر زمین پر ہوتے چلے آ رہے ہیں، انہی میں سے ایک میلہ چراغاں ہے۔

یہ میلہ کب اور کیوں شروع ہوا اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس بات کے شواہد ضرور ملتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں سکھوں کے دور میں بھی یہ میلہ منایا جاتا تھا۔

راجہ رنجیت سنگھ خود اپنے درباریوں کے ساتھ اس میلے میں شریک ہوتا تھا۔ اور باغبانپورہ میں شاہ حسین کے دربار پر گیارہ سو روپے اور ایک جوڑا بسنتی چادروں کا چڑہاوے کے طور پر دیا کرتا تھا۔

یہ میلہ موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھااور زائرین کی کثیر تعداد شاہ حسین کے مزار پر چراغ جلایا کرتی تھی اور منتیں مانا کرتی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔

میلہ چراغاں
مادھو لال حسین کی پیروی اب بھی سرخ لباس پہن کر دھمال ڈالی جاتی ہے
شاہ حسین کا عرس ہر سال رجب کی پہلی تاریخ کو ہوا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ عرس اور میلہ ایک ہی وقت میں اکٹھے ہو گئے تب سے اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ عرس اور میلہ ہمیشہ اکٹھے ہی منائے جائیں گے اور اس مقصد کے لئے مارچ کا آخری ہفتہ مختص کیا گیا۔

اس موقع پر شاہ حسین کے بارے میں مختصراً بتاتا چلوں کہ وہ سلسلہ قادریہ سے فیض یاب ہوئے اور زندگی کے اولین چھتیس سال شریعت کے مطابق اور زہدو عبادت میں گزارے۔

ایک روز قرآن کی تفسیر پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے ترجمہ ’دنیا ایک کھیل کود کے سوا کچھ نہیں‘ اس آیت کا شاہ حسین پر ایسا اثر ہوا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لال کپڑے پہن، داڑھی مونچھ منڈوا کر گانا بجانا اور پینا پلانا شروع کر دیا اور فقیروں کے ملامتیہ فرقے میں شامل ہو گئے اور زندگی کے بقیہ ستائیس برس جذب و سکر کی حالت میں گزارے۔

اسی دور میں شاہ حسین کو ایک برہمن ہندو لڑکے مادھو لال سے عشق ہو گیا اسی عشق کی وجہ سے لوگ شاہ حسین کو شاہ حسین کی بجائے مادھو لال حسین کہنے لگے۔ مادھو نےبھی سر تسلیم خم کیا اور باقی تمام عمر شاہ حسین کی مریدی میں گزار دی۔

راوی لکھتا ہے کہ ایک روزشاہ حسین اسی جذب و مستی کی حالت میں چھت سے گرے اور داعئی عدم ہو گئے۔ شاہ حسین کو پہلے مادھو لال نے اپنے علاقے شاہدرے میں دفنایا مگر (شاہ حسین کی پیشین گوئی کے مطابق) بارہ برس بعد سن سولہ سو تیرہ میں جب دریائے راوی نے اپنا رخ بدلا تو مادھو لال نے شاہ حسین کو شاہدرے سے نکال کر باغبانپورہ میں دفن کیا اور اپنی باقی ماندہ زندگی مزار کی مجاوری میں گزار دی۔ اور جب مادھو سن سولہ سو چھتیس میں فوت ہوا تو اس کی قبر بھی شاہ حسین کے برابر میں بنائی گئی۔

شروع سے لے کر سن انیس سو پچاس تک میلہ چراغاں یا مادھو لال حسین(شاہ حسین) کا عرس شالا مار باغ میں ہوا کرتا تھا مگر بعد میں شالا مار باغ کی تخریب کو مد نظر رکھتے ہوئے میلے کو جی ٹی روڈ اور باغبانپورہ تک محدود کر دیا گیا۔
ہمیشہ کی طرح اس سال بھی ستائیس، اٹھائیس ار انتیس مارچ کو میلہ چراغاں منایا گیا جو شاہ حسین کا چار سو سولہواں عرس بھی تھا۔ اس سال بھی میلے کے آغاز کے ساتھ ہی مداری،سرکس والے، ڈھولچی، ناچے، مٹھائی والے اور دیگر دکانوں والے وہاں اپنے کاروبار کے اڈے جما لیے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار لوگوں کا روزگار اس میلے سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ عوام کو محض تفریح فراہم نہیں کرتا اورنہ ہی خالصتاً عرس کی طرح منایا جاتا ہے بلکہ تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد