BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 05 April, 2004, 12:35 GMT 17:35 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اختلافات کی خبریں، تبدیلی کا پیش خیمہ؟
 

 
 
ماضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اختلافات کی خبروں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
پاکستان کےوزیراعظم میرظفراللہ جمالی اورحکمران جماعت کےسربراہ چودھری شجاعت حسین کےدرمیان اختلافات کی خبروں کےساتھ ساتھ اب درمیانی مدت کےعام انتخابات کی خبریں بھی مقامی اخبارات میں تواتر سے شائع ہورہی ہیں۔

وزیراعظم سے لے کرحکومتی ترجمان شیخ رشید تک سب ایسی خبروں کی سختی سےتردید کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی کسی نہ کسی اخبارمیں نمایاں طورپرمختلف زاویوں سے آئے روز اس طرح کی خبریں شائع ہوتی ہیں اور بعض کالم نگار بھی ان معاملات پر تبصرے کر رہے ہیں۔

انگریزی اخبار ٹائمز نےدو اپریل کو صفحہ اول پر چھ کالمی خبر شائع کی کہ ’جمالی اورشجاعت میں شدیداختلافات‘۔

فرنٹیئر پوسٹ میں تین اپریل کونمایاں طور پر شائع شدہ خبر میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ’حکمران جماعت کےاراکین پر مشتمل ایک گروپ وزیراعظم کوہٹانےکی تیاری کررہاہے‘۔

اس اخبار کے مطابق جلد ہی جمالی اور شجاعت کےاختلافات منظر عام پر آنے والے ہیں۔

ایک اورانگریزی اخبار’دی نیشن‘نے چار اپریل کو لکھا کہ جمالی اور شجاعت کے درمیاں اختلافات ختم کرنے کے لئے سنیچر کی شب طویل ملاقات ہوئی۔ جبکہ پانچ اپریل کےشمارے میں ایک خبرمیں اسی اخبار نے دعوٰی کیا ہے کہ شجاعت اور جمالی دونوں جلد صدر مشرف سے ملیں گے۔

انگریزی اخبارات کےعلاوہ اردو اخبارات میں بھی آئے روز شجاعت - جمالی اختلافات کی خبریں گزشتہ کچھ دنوں سےشائع ہورہی ہیں۔ مختلف اخبارات نےجمالی شجاعت اختلافات کی وجوہات بھی مختلف بیان کی ہیں۔

وزیراعظم نے جمعہ دو اپریل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر کے پرنسپل سٹاف افسر کا کردار تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کی حکومت حزب اختلاف کےنہ دباؤمیں آئےگی نہ بلیک میل ہوگی۔

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ برطرف نہیں ہوگی اور آئندہ انتخابات سن دوہزار سات میں ہوں گے۔ تردید کے باوجود بھی اختلافات کی خبروں کی اشاعت میں تیزی کے بعد حکومت نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سےکافی وضاحت سےایک بار پھر اختلافات کی سختی سے تردید کی خبر جاری کی جو کہ پانچ اپریل کے بیشتر اخبارات میں شائع بھی ہوئی ہے۔

ماضی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ چاہے وہ نومبر انیس سو چھیانوے میں بینظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ ان کے انتہائی قابل اعتماد صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں ہو یا پھر دو تہائی اکثریت والی نوازشریف حکومت کے خاتمے سے متعلق خبریں، سرکاری ترجمان آخری وقت تک تردید کرتے رہے۔

پتہ نہیں اس بار شائع ہونےوالی خبریں درست ثابت ہوں گی کہ نہیں لیکن مقامی اخبارات کا انداز کچھ ویسا ہی ہے جیسے ماضی کی تبدیلیوں سےقبل خبریں شائع کرنےکاہوتاتھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد