BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 June, 2004, 06:44 GMT 11:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سندھ اور صدر مشرف کے ’موثر اقدامات‘
 

 
 
سندھ کے مستعفی ہونے والے وزیراعلیٰ
تو بالآخر صوبہ سندھ میں وہ تبدیلی آگئی جس کی طرف صدر جنرل پرویز مشرف نے، ان کے ترجمانِ اعلیٰ کے مطابق، گزشتہ دنوں اشارہ کیا تھا۔

یہ اشارہ کراچی میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دیا گیا اور توقع یہ تھی کہ صدر کوئی ایسے اقدامات کریں گے جو ملک کے اس بدقسمت حصے کے حالات بہتر کرنے میں ممد و معاون ثابت ہونگے۔

کچھ اقدامات ہوئے، آہستہ آہستہ۔

پہلے بعض پولیس افسران تبدیل کئے گئے۔

لوگوں نے کہا اس سے کیا ہوگا۔

قیاس آرائیاں ہوتی رہیں اور اب وزیرِاعلیٰ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور سردار علی محمد مہر کی جگہ ارباب غلام رحیم کے سر پر ہاتھ رکھ دیا گیا یا رکھا جانے والا ہے۔ کیونکہ کچھ اور بھی امیدوار میدان میں کود گئے ہیں یا اکھاڑے میں اتار دیئے گئے ہیں۔

زیادہ امکان ہے کہ ارباب غلام رحیم ہی سندھ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں وزیرِاعلیٰ منتخب ہوجائیں گے۔ کیونکہ ہما ان ہی کے سر پر بٹھایا جانا طے کرلیا گیا ہے۔

اور یہ ’طے‘ کرنا ہی سارے فساد کی جڑ ہے۔ سردار علی محمد مہر جب منتخب ہوئے تو ایک آزاد امیدوار تھے۔ ان کے ساتھ کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی، ان کے ساتھ 168 اراکین میں سے کوئی دوسرا نہیں تھا۔ مگر انہیں ان لوگوں کی سرپرستی اور آشیرباد حاصل تھی جو اصل قوت کا سر چشمہ ہیں۔ سردار مہر کو سندھ اسمبلی کی اکثریت نے، برائے نام اکثریت نے، وزیرِاعلیٰ منتخب کرلیا۔ کیونکہ طے کرنے والوں نے یہی طے کیا تھا۔

سردار مہر بااختیار تھے یا نہیں یہ سب کو اندازہ تھا اور ہے۔ ان کی حکومت کہاں تھی یہ بھی سب کو اندازہ ہے۔ اور بالآخر وہ رخصت کردیئے گئے اور ان کی عزت رکھنے کی خاطر ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔

حالیہ دنوں میں کراچی فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں رہا

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس تجربہ، اور اس سے پہلے ہونے والے اسی طرح کے ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا اور جمہوریت کو اپنی راہ خود متعین کرنے دی جاتی۔ یہ موقع دیا جاتا کہ اسمبلی میں جس جماعت کو اکثریت حاصل ہے وہ حکومت بنائے۔ مگر یوں نہیں ہوا۔

ہوا یہ کہ اس بار ارباب غلام رحیم کو منتخب کرلیا گیا۔ ارباب غلام رحیم 168 کے ایوان میں ایک قلیل اقلیتی گروپ کے نمائندے ہیں۔ ان کے ساتھ پانچ یا چھ ارکان ہیں اور بھان متی کا جو کنبہ انہیں اپنا قائد منتخب کرے گا اس میں بھی وہ ایک آدھ مہینہ پہلے ہی شامل ہوئے ہیں۔

مگر ظاہر ہے ان کی پشت ان لوگوں نے تھپکی ہے جو حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں اس لئے ارباب رحیم آسانی سے قائدِایوان منتخب ہوجائیں گے اور وزیرِاعلیٰ کا منصب سنبھال لیں گے۔

تو کیا صدرجنرل پرویز مشرف کے ’موثر اقدامات‘ یہی تھے؟

یہ تو محلاتی سازشوں کا تسلسل ہے جس کا نشانہ ملک کا یہ دوسرا بڑا صوبہ کافی عرصہ سے بنتا چلا آرہا ہے۔ صرف اس صوبے کے سربراہ کا فیصلہ اس صوبے کے لوگ نہیں کرتے۔ یہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کے نتائج یہ صوبہ بھگتتا ہے۔

اس صوبے کو امن و امان کی ضرورت ہے۔ اس صوبے کو جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اس صوبے کو ٹوٹتے پھوٹتے نظام کی بحالی کی ضرورت ہے۔ یہ کام کیوں نہیں ہوتے؟ یہ کام کب ہوں گے؟ ہوجائیں اور جتنی جلد ہوجائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس حقیقت سے منہ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نقصان البتہ بہت ہیں اور یہ صوبہ انہیں بھگت رہا ہے اور یہ اس وقت تک بھگتتا رہے گا جب تک اس صوبے کے عوام کو اپنے فیصلے کرنے کا ااختیار مل نہیں جاتا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد