BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 June, 2004, 12:06 GMT 17:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جمالی نے استعفی دے دیا
 
وزیر اعظم جمالی اور مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے درمیان خاصے عرصے سے اختلاف چل رہے تھے۔
پاکستان کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے انیس ماہ تک وزارتِ عظمی کے عہدے پر رہنے کے بعد ہفتے کی صبح اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

تمام دن کی افواہوں کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد نے شام کو پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں سرکاری طور پر وزیر اعظم جمالی کے استعفی کی خبر کی تصدیق کی۔

اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جمالی اور ان کی کابینہ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی تک اپنے عہدے پر کام کرتی رہیں گے۔


انہوں نے کہا کہ نئے وزیر اعظم کی نامزدگی منگل تک کر دی جائے گی۔

شیخ رشید احمد نے اس انٹرویو میں اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ ظفر اللہ جمالی نے اپنا استعفی کب اور کہاں صدر مشرف کو پیش کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ اور اتحادی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس جو ہفتے کی شام کو مسلم لیگ ہاوس میں طلب کیا گیا ہے اس اجلاس میں وزیر اعظم جمالی اپنے استعفی کا خود اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن اس اجلاس کی کارروائی براہ راست نشر کرے گا۔

اجلاس میں حامد ناصر چٹھہ، راؤ سنکدر اقبال ، فاروق خان لغاری اور دیگر سیاسی رہنما وزیر اعظم جمالی اور چوہدری شجاعت حسین کا انتظار کر رہے تھے۔

وزیر اعظم جمالی چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر موجود تھے ۔ جہاں پر پنجاب کے وزیر اعلٰی چوہدری پرویز الہی بھی موجود تھے۔

اس دوران ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کو ائندہ وزیر اعظم بنایا جائے گا۔

اس سے پہلے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سینٹر محمد علی درانی کے حوالے سے کہا تھا کہ وزیر اعظم جمالی ہفتے کی صبح اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

محمد علی درانی نے کہا کہ وزیر اعظم جمالی نے صدر جنرل مشرف کو اپنا استعفی پیش کیا جس کو انہوں نے قبول کر لیا ہے۔

محمد علی درانی نے مزید کہا کہ صدر مشرف نے نئے وزیر اعظم کی نامزدگی تک اپنے عہدے پر کام کرنے کو کہا ہے۔

وزیر اعظم جمالی نے جمعہ کی شب اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے اپنے استفعی کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کی تردید کی تھی۔

انہوں نے سیاست کو ٹیسٹ میچ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کچھ لوگ اس کو ایک روزہ میچ سمجھ کر کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آ رہی اور اس ضمن میں چھپنے والی خبروں پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔

مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر اور وفاقی وزیرِ مذہبی امور اعجاز الحق نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور وزیر اعظم جمالی نے ہفتے کی صبح صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی تھی۔ تاہم انہوں نے اس بات سے لا علمی کا اظہار کیا کہ اس ملاقات میں ظفر اللہ جمالی نے صدر کو اپنا استعفی پیش کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی میٹنگ کے بعد ہی یہ بات واضح ہو گی۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ چوہدری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ جمالی کے درمیان اختلافات پائے جاتے تھے جن کو بڑی کوششوں کے بعد حل کر لیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس ظفر اللہ جمالی کے بعد کس شخص کو پارٹی میں بغیر اتفاقِ رائے کے وزیر اعظم بنایا گیا تو وہ اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں پارٹی کی یکجہتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد