BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 June, 2004, 13:55 GMT 18:55 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
آخر وجہ کیا بنی؟
 

 
 
ظفر اللہ جمالی
جمالی اور مشرف میں اختلافات دن بدن بڑھتے جا رہے تھے
وزیراعظم ظفراللہ جمالی سے پاکستان کی طاقتور اسٹیبلیشمینٹ نے آج استعفی حاصل کرلیا اور اقتدار کے کھیل میں ایک نئے ڈھنگ کا اضافہ کردیا۔ اس طریقہ کار میں صدر اور آرمی چیف کو وزیراعظم کو برخاست کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اٹھاون ٹو بی کی ضرورت بھی نہیں کہ سپریم کورٹ اس کے خلاف فیصلہ دے سکے بلکہ صرف کور کمانڈر کو بھیج کر ایک کمزور وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرنا ہے اور اگر اس کے پیچھے استعمال کیے گۓ دباؤ کو نہ دیکھا جاۓ تو یہ آئین اور قانون کے مطابق بھی ہے۔

ظفراللہ جمالی اور شجاعت حسین وضاحتیں تو کررہے تھے کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور نئے انتخابات سنہ دو ہزار سات میں ہی ہوں گے لیکن ایسے دعوے ماضی میں بھی غلط ثابت ہوئے ہیں اور اس بار بھی۔

جمالی کی رخصتی سے بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلیشمنٹ ظفراللہ جمالی جیسے نرم خو اور کم اختیارات کے حامل وزیراعظم کو بھی برداشت نہیں کرسکتی۔

تاہم تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جمالی جنرل مشرف کے لیے بظاہر نرم مزاج لیکن اندر سے قدرے سخت سیاستدان ثابت ہوئے اور انہوں نے آخر تک پرویزمشرف کے وردی اتارنے کے معاملہ پر ان کی حمایت کرنے سے انکار کیا۔

بظاہر وزیراعظم جمالی صدر جنرل پرویز مشرف کو کھلے عام اپنا باس کہتے ہیں اور آئے دن حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین سے مشاورت کے لیے ان کے گھر جاتے اور اپنی جماعت کے نائب صدر کبیر واسطی تک کو راضی کرنے کے لیے خود ٹیلیفون کرتے تھے۔

تاہم واقفان حال کا کہنا ہے کہ نازک سیاسی معاملات پر انھوں نے وزیراعظم کے طور پر اپنی آزاد رائے پر اصرار کیا جس سے ان کے اور صدر مشرف میں اختلافات پیدا ہوگۓ۔

صدر مشرف اور وزیراعظم جمالی کے درمیان اختلافات کی خبریں تو گزشتہ سال اسی وقت آنا شروع ہوگئی تھیں جب وزیراعظم جمالی نے لیگل فریم ورک آرڈر کے معاملہ پر متحدہ مجلس عمل سے سمجھوتہ نہ ہوسکنے پر بھرے اجلاس میں صدر مشرف پر انگلی اٹھائی تھی۔

تاہم اس واقعہ کے بعد جنرل مشرف امریکہ گۓ اور ایک ہفتہ بعد ہی وزیراعظم جمالی بھی صدر جارج بش کی دعوت پر تیس ستمبر سنہ دو ہزار تین کو امریکہ گۓ۔

کہا جاتا ہے کہ جب بش سینئر انیس سو نوے کی دہائی میں امریکہ کے صدر کے طور پر پاکستان آئے تھے تو جمالی اس وقت ایک وفاقی وزیر تھے اور انھوں نے ان کے ساتھ وزیر براۓ مہمان داری کے طور کام کیا تھا اور ان کا صدر بش سینیئر سے ایک تعلق قائم ہوگیا تھا۔

سینئیر بش سے اپنے پرانے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم جمالی نے موجودہ صدر بش سے تعلق استوار کیا اور صدر مشرف کے دورہ کے فوراً بعد امریکہ گئے جہاں یکم اکتوبر کو ان کی صدر بش سے ملاقات ہوئی جس سے یہ تاثر ابھرا کہ امریکہ کا ہاتھ صرف صدر جنرل مشرف پر ہی نہیں وزیراعظم جمالی پر بھی ہے۔

صدر مشرف کے وزیراعظم جمالی سے اختلاف کا ایک اہم واقعہ اس سال اپریل میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بل کی منظوری کے وقت پیش آیا۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کا مسودہ قانون وزیراعظم جمالی نے کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کردیا اور کابینہ میں کہا کہ ’ہم پر ذمہ داری آگئی ہے اور ہم اسے اس طرح منظور کریں کہ پارلیمینٹ کا وقار قائم رہے‘۔

جمالی کی کوششوں سے نیشنل سکیورٹی کونسل کا اصلی مسودہ قانون جسے صدر مشرف کے ساتھیوں نے تیا رکیا تھا اس میں تبدیلی کی گئی۔ ا س کے دائرہ کار میں سے جمہوریت، اچھا نظم ونسق اور بین الاصوبائی امور پر مشاورت کو نکال دیا گیا اور ان کی جگہ کرائسس مینجمینٹ (ہنگامی حالات سے نپٹنے) کے الفاظ شامل کیے گئے۔

فروری میں نیشنل ڈیفنس کالج میں صدر مشرف اور وزیراعظم جمالی دونوں نے ایک ہی دن الگ الگ سیشنوں سے خطاب کیا اور دونوں کے خیالات میں خاصا فرق تھا۔

وزیر اعظم جمالی نے نیشنل ڈیفنس کالج کے اس اہم خطاب میں فوج کی بدعنوانی کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ریاست اور عوام میں خلیج پیدا ہورہی ہے۔انھوں نے ملک میں احتساب کی رفتار سے بھی مطمئن نہ ہونے کا اظہار کیا۔

اس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک تین روزہ کانفرنس بدعنوانی کے معاملہ پر بلائی تو اس میں بھی صدرمشرف اور وزیراعظم جمالی دونوں نے خطاب کیا اور دونوں کا نکتہ نظر محتلف تھا۔

وزیراعظم جمالی نے یہاں نیب کی پہلی بارگیننگ (پیسے لے کر ملزم سے سمجھوتہ کرلینے) کی پالیسی پر خوب تنقید کی اور اسے بذات خود ایک اداراتی بدعنوانی قرار دیا۔

صدر مشرف
آخر کار مشرف کو جمالی کو خدا حافظ کہنا پڑا

اس دوران مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین تو وزیراعظم جمالی سے غیر مطمئن نظر آرہے تھے جس کی ایک بڑی وجہ جمالی کا کابینہ میں توسیع کرنے سے گریز تھا۔جمالی بار بار کہتے رہے کہ کابینہ میں توسیع مناسب وقت پر ہوگی۔

مسلم لیگ کے نائب صدر کبیر واسطی نے ایک ماہ پہلے صدر مشرف کے نام اپنے خط میں وزیراعظم جمالی پر جو الزامات لگائے ان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کابینہ میں توسیع اس لیے نہیں کررہے کہ اس طرح انھیں چودھری شجاعت حسین کی خواہش اور رائے کا احترام کرنا پڑے گا۔

کبیر واسطی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ میر ظفراللہ جمالی درپردہ اپنی سیاسی قوت بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی سے پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔

دراصل صدر جنرل پرویز مشرف کا اس سال دسمبر کے آخر تک آرمی چیف کی وردی اتارنےکا معاملہ ہی اس وقت وزیراعظم جمالی کے لیے بڑا مسئلہ بن گیا۔

اس سال اپریل میں نیشنل سکیورٹی کونسل کا بل پاس ہوتے ہی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے ارکان نے جن میں وفاقی وزرا فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر شامل ہیں، کُھلے عام صدر مشرف سے کہا تھا کہ وہ وردی نہ اتاریں اس سے ملک میں عدم استحکام ہوجائے گا۔

تاہم وزیراعظم جمالی نے صدر مشرف کی وردی نہ اتارنے کی وکالت نہیں کی بلکہ وہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ اس کا فیصلہ تو سترھویں ترمیم میں ہوچکا ہے اور صدر مشرف ایک با عزت آدمی ہیں وہ اپنے وعدہ کو پورا کریں گے۔ گویا وہ صدر کی مرضی کے مطابق وردی کے معاملہ پر کھل کر ان کی حمایت کرنے کے بجائے ان کے وردی اتارنے کے وعدے کو مزید پختہ کرتے رہے۔

ان حالات میں صدرمشرف نے اٹھائیس اپریل کو لاہور میں حکمران مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی سے ملاقات کی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی، گورنر خالد مقبول، کورکمانڈر لاہور اور چودھری شجاعت حسین شریک تھے لیکن وزیراعظم کو نہیں بلایا گیا۔

اس اجلاس میں ارکان اسمبلی نے مشرف سے گلے شکوے کیے اور مشرف نے ان سے کہا کہ وہ نہ گھبرائیں اور شریف خاندان اور بے نظیر ملک واپس نہیں آرہے اور وہ وردی اتارنے کا فیصلہ خود وقت آنے پر کریں گے۔

اپریل میں ہی صدر مشرف نے اسلام آباد میں انتظامی امور اور روز مرہ کے حکومتی معاملات سے متعلق امور پر اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرنی شروع کردی حالانکہ رولز آف بزنس کے تحت وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے اور یہ صرف وزیراعظم کا اختیار ہے۔

صدر نے گزشتہ دو ماہ میں ایک درجن سے زیادہ انتظامی اجلاسوں کی صدارت کی جن میں مکانات اور تعمیرات کی صنعت، ہاؤسنگ سوسائٹیاں، پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو، پانی اور بجلی، نصاب تعلیم اور بین الاصوبائی معاملات شامل تھے۔

جون سے تو صدر مشرف نے وردی پہن کر پارلیمینٹ ہاؤس میں آنا شرو ع کردیا اور ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کردیں۔

جمالی نے بیرون ملک جو دورے کیے ہیں وہ بھی ان کے ناقدین کو پسند نہیں آئے خاص طور پر تیس اپریل سے جمالی نے مشرق بعید کے چار ملکوں کا جو نو روز کا دورہ کیا اس پر انگلیاں اٹھائی گئیں۔

مشرق بعید کے اسی دورہ کے دوران وزیراعظم جمالی نے ہانگ کانگ میں ایک خطاب میں کہا کہ لوگوں کے مسائل اس لیے حل نہیں ہوتے کہ سیاسی حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنےکا موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ ان کو حل کرسکیں۔

جمالی کو بھی اپنے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی مدت نہ مل سکی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد