BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 23 July, 2004, 10:08 GMT 15:08 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سندھ میں افسران کی بھرتی پر تنازعہ
 

 
 
سندھ پبلک سروس کمیشن
کمیشن کے 2003 کے مقابلے کے امتحانات کے نتائج پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے
صلاحیت ہو نہ ہو، کیا فرق پڑتا ہے۔ وزیر کا بیٹا وزیر، افسر کا بیٹا افسر اور صلاحیت کے باوجود کلرک کا بیٹا کلرک اور مزدور کا بیٹا مزدور ہی بنے گا۔

کچھ ایسا ہی حال سندھ میں دکھائی دیتا ہے۔ جہاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے افسران کی حالیہ بھرتیاں متنازعہ ہو گئی ہیں۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کے سال دو ہزار تین کے مقابلے کے امتحانات کے نتائج پر انہی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور انگلیاں اٹھنے لگی ہیں کہ بھرتی میں اقربا پروری سے کام لیا گیا ہے۔

یہ الزام اس وجہ سے بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ کامیاب ہونے والے کل ستتر امیدواروں میں سے ایک چوتھائی تعداد ان لوگوں کی ہے جو موجودہ وقت میں صوبائی حکومت میں اعلٰی عہدوں پر فائز ہیں۔

سندھ پبلک سروس کمیشن ایسا بااختیار اور آزاد ادارہ سمجھا جاتا ہے جو میرٹ پر صوبائی انتظامی عہدوں کے لیے باصلاحیت امیدواروں کو بھرتی کرتا ہے۔
کمیشن نےاس سال جنوری میں صوبائی کیڈر میں بھرتی کے لیے تحریری امتحان لیا اور جون میں چار رکنی کمیٹی نے تحریری امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کے انٹرویو بھی کیے۔

امتحان میں ناکام قرار دیئے گئے چار امیدواروں نے گزشتہ روز حیدرآباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر برتی گئی اقربا پروری اور افسران کے بیٹوں کو کمیشن کے ذریعے اعلٰی عہدے دینے کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ حبیب الرحمان جمالی، نبی بخش سہتو، محمد عظیم کھوسو اور عزیز چانڈیو نے ان امیدواروں کی لسٹ بمع متعلقہ افسران سے ان کی رشتہ داری کے کاغذات بھی صحافیوں کو فراہم کیے۔

امیدوار
اس سے قبل لیکچرار کی آسامیوں کی بھرتیوں پر بھی تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے

اس لسٹ کے مطابق کم از کم چھ امیدوار ایسے ہیں جن کے والد یا بھائی اس وقت بھی صوبائی سیکریٹری ہیں۔ دو ایسے امیدوار انٹرویو کمیٹی کے ممبران تھے جبکہ ایک صوبائی مشیر کے بھائی سمیت آٹھ دیگر امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے جن کے قریب ترین رشتہ دار صوبائی حکومت میں اعلٰی عہدوں پر فائز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کے دن نتائج کا اعلان مزید شکوک کو جنم دے رہا ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ اگر غیر جانبدار بورڈ کے ذریعے انٹرویو کیے جائیں تو یہ امیدوار کامیاب نہیں ہو سکتے اور نتائج کچھ اور ہوں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن کے یہ نتائج منسوخ کیے جائیں اور ایک غیر جانبدار کمیٹی کے ذریعے دوبارہ انٹرویو کیے جائیں۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کے ایک سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض سینیئر بیوروکریٹس اور سیاستدانوں نے قریبی رشتہ داروں کو کامیاب کرانے کے لیے دباؤ ڈالا اور اثر رسوخ استعمال کیا تھا۔

کمیشن کے کنٹرولر امتحانات نے ناکام قرار دیے گئے امیدواروں کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انٹرویو غیر جانب دار بورڈ نے کیے تھے جو کہ ریٹائرڈ افسران پر مشتمل تھا۔

کمیشن کے سیکریٹری امتیاز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کسی میں صلاحیت ہے اور وہ کسی افسر کا بیٹا ہے تو آپ اس کی صلاحیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اکا دکا سینیئر افسران کے بیٹے یا قریبی رشتہ دار کامیاب ہوئے ہیں- البتہ انہوں نہ یہ بھی کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ بعض افسران کے رشتہ دار تحریری امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرویو میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

میرٹ پر بھرتی کے حکومتی دعوؤں کے باوجود اس سے قبل لیکچرار کی آسامیوں کی بھرتیوں پر بھی تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے اور تین شہروں سکھر، حیدرآباد اور لاڑکانہ کی عدالت میں کالج اساتذہ کی ان بھرتیوں کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد