BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 July, 2004, 14:55 GMT 19:55 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کارگل جنگ اور چار کا ٹولہ
 
نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھ
’کارگل کی جنگ کا پلان بہت پرانا تھا‘
ایک نئی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کارگل جنگ کا پلان چار جرنیلوں نے مل کر بنایا تھا اور اس کے بارے میں نواز شریف کو کوئی علم نہیں تھا۔

’پاکستانز ڈرِفٹ انٹو ایکسٹریمزم: اللہ، دی آرمی، اینڈ امیریکاز وار آن ٹیرر‘ میں کتاب کے مصنف حسن عباس نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح کا پلان بہت پہلے سے آرمی کے پاس موجود تھا لیکن مختلف ادوار میں آرمی جنرل اس سے اختلاف کرتے رہے اور اس وجہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو عباس حسن نے کہا کہ کارگل کی جنگ کا پلان جنرل عزیز کا تھا جو انہوں نے اس وقت پیش کیا جب وہ سی جی ایس تھے۔

’یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی سابق جنرل ضیاء الحق کے سامنے یہ آئیڈیا پیش کیا گیا تھا۔ جب ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے ضیاء الحق کو ایک بریفنگ دی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ ہم کارگل میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ضیاء نے اس کو قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ کوئی ’ٹیکٹیکل آپریشن‘ نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم ہندوستان سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہماری فوج میں اتنی طاقت ہے اور ہم بین الاقوامی طور پر کچھ حاصل کر سکتے ہیں تب تو یہ آپریشن بالکل ٹھیک ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اس طرح کے جارحانہ عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

حسن عباس کے مطابق یہ پلان دوبارہ جنرل جہانگیر کرامت کے سامنے پیش کیا گیا لیکن انہوں نے بھی یہ کہہ کر اسے رد کیا کہ اس وقت نہ تو ہماری اہلیت ہے اور نہ ہی ہماری اقتصادی حالت ایسی ہے کہ ہم ایسا کر سکیں۔

حسن عباس جو سابق پولیس افسر ہیں اور بینظیر، نواز شریف اور پرویز مشرف کے دور میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ اس کے بعد جنرل عزیز نے یہ پلان ٹین کور کے جنرل محمود کو پیش کیا جو ان کے دوست اور ہم عصر تھے۔ ’جنرل عزیز جنرل محمود کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد یہ کارگل سیکٹر میں نیم فوجی دستوں کے انچارج جنرل جاوید حسن کے سامنے پیش کیا گیا اور آخر کار یہ جنرل مشرف کو پیش کیا گیا اور اس طرح کارگل کی جنگ شروع ہوئی‘۔

حسن عباس کے مطابق اس پلان میں ’چار کا ٹولہ‘ شامل تھا اور اس کے ’ٹیکٹیکل فادر‘ جنرل عزیز تھے۔

کتاب کے مصنف نے یہ بھی کہا کہ نہ اس پلان کا بحریہ کے کمانڈر جنرل فصیح بخاری کو بتایا گیا اور نہ ہی فضائیہ کے سربراہ جنرل مححف علی میر کو۔ دونوں کو یہ گلہ رہا ہے کہ اتنے بڑے پلان کے بارے میں انہیں نہیں بتایا گیا۔

حسن عباس کے مطابق اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو بھی اس بارے میں لاعلم رکھا گیا۔ ’نواز شریف جب بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری سے ملے تھے تو اس وقت تک ان کے علم میں کچھ بھی نہیں تھا۔ فوج نے ان کے ساتھ کارگل پر پہلی میٹنگ مارچ کے آخری ہفتے میں کی تھی‘۔

حسن عباس نے اپنی کتاب میں پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور آئی ایس آئی کردار، ضیاء الحق کی ہلاکت، اور گیارہ ستمبر کے بعد مشرف حکومت کی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد