BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 09 August, 2004, 13:04 GMT 18:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بلوچستان جلتا ہے تو پاکستان جلتا ہے‘
 

 
 
بلوچستان اسمبلی
آج بھی بلوچستان میں ایسے قوم پرست رہنما اور کارکن موجود ہیں جنہوں نے پہلی بار پاکستان کا پرچم جیلوں میں دیکھا تھا۔ وہ نہ تو اسلامی شدت پسند ہیں اور نہ ہی ’دہشت گرد‘ لیکن پھر بھی پاکستانی ریاست اپنی فوجی قوت کے ساتھ تیسری مرتبہ ان پر چڑھ دوڑی ہے۔

لیکن اب تو یہ کہنے کے لیے حبیب جالب جیسے شاعر بھی نہیں رہے جو کہتے تھے:

’اٹھو پنجاب کے لوگو
بلوچستان جلتا ہے
بلوچستان جلتا ہے تو پاکستان جلتا ہے‘

بلوچ قوم پرستی جسے بھٹو، ٹکا خان، ضیاءالحق اور شہنشاہ ایران کے ہیلی کاپٹر بھی زیر نہیں کر سکے، آج کے پاکستان میں سب سے زیادہ پختہ، دانشمند اور پاکستانی ریاست کا اپنے ہی لوگوں کے ساتھ جوروستم کا سب سے زیادہ تجربہ رکھتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے حکمرانوں اور جرنیلوں کی قوت ایمان تو دیکھو کہ سن انیس سو سڑسٹھ میں بلوچ سردار نوروز خان، ان کے بیٹوں اور ساتھیوں کو پہاڑوں پر سے قرآن پر صلح اور ان کو جان کی امان دے کر اتروا کر ان کے ساتھ وعدہ شکنی کی گئی۔ انہیں قید کیا گیا اور حیدرآباد سنٹرل جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ سندھ کے تالپور خاندان کی عورتوں نے نوروز خان اور اس کے بیٹوں اور ساتھیوں کی لاشوں پر اپنے دوپٹے ڈال دیے تھے۔

کوئی عجب نہیں حیدرآباد کے تالپور خاندان کے دو نوجوانوں میر محمد علی اور میر حیدر جب بھٹو نے ٹکا خان کی سربراہی میں بلوچستان پر پھر فوج کشی کی تو وہ بھی اس کی مزاحمت میں لڑنے گئے۔ انہی دنوں میں ٹکا خان کو ’بنگال اور بلوچستان کا قصائی‘ قرار دیا گیا تھا۔

کسی شاعر نے تب کہا تھا:

’مینگل بزنجو ہیں تو کیا
اپنا بھی ٹکا خان ہے
یہ سرزمین پاک ہے‘

تالپور برادران میر علی احمد تالپور اور رسول بخش تالپور اپنے بیٹے اور بھتیجے کی بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ساتھ جنگ لڑنے کے لیے جانے پر بھٹو کے سخت زیر عتاب آئے تھے۔

’ان کی تو میں ماں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ حیدر آباد کے بھرے جلسہ عام میں ’قائدعوام‘ بھٹو نے عوامی زبان اور بازو کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا۔

لیکن وہ غیر بلوچی، غیر قبائلی اور غیر سردار پڑھے لکھے نوجوان تھے جو 1973 کے بہت ابتدائی دنوں میں بلوچستان کے پہاڑوں میں پاکستانی ریاست اور فوج کے ساتھ لڑنے گئے۔ یہ پنجابی، سندھی، اردو، انگریزی اور گجراتی بولنے والے تھے۔ بلوچستان ان کے ان جیسے نوجوانوں کے لیے وہ انقلابی رومان تھا جس طرح سن 1930 کی دہائی میں اسپین اور 1960 کی دہائی میں بولیویا یا لاطینی امریکہ کے کئی ممالک دنیا بھر کے انقلابی رومانویت پسندوں کے لیے تھی۔

بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر لڑنے کے لیے جانے والوں میں ان لوگوں کا تعلق پاکستان اور پاکستان سے باہر رہنے والے شہری متوسط اور متمول طبقوں سے تھا۔ بنگالیوں کی آزادی کی جنگ کی فتح کے بعد ان پڑھے لکھے نوجوانوں کی آنکھوں میں آدرشی خواب تھے۔ ان نوجوانوں میں جسٹس رحمان کے دو بیٹے راشد رحمان اور اسد رحمان، آج کے پاکستانی صحافی اور مصنف احمد رشید، آغا خانی محمد بھابھا اور کراچی کے حسن ناصر (زیدی) بھی تھے۔

ایسے کہیے کہ اس جنگ کی ’سازش ‘ بلوچستان کے پہاڑوں اور سرداروں کے ڈیروں پر نہیں بلکہ کراچی کے ناظم آباد اور لیاری اور لاہور کے گلبرگ اور کینٹ کے گھروں میں کی گئی۔ جانے والے ان نوجوانوں نے بلوچی زبان اور ثقافت سے بڑی روشنائی حاصل کی اور بلوچی سورماؤں کے نام اختیار کیے: چاکر خان، مراد خان اور شہباز خان وغیرہ۔

’ما بچک بلوچان ے‘ (میں بلوچوں کی اولاد ہوں) ۔گل خان نصیر کے اس بلوچی گیت کی گونج پنجاب یونیورسٹی میں بھی سنی گئی تھی۔ دوران جنگ پہاڑوں پر خچروں پر یہ لوگ نہ فقط ہتھیار لیکن کتابیں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک پوری غار کتابوں سے بھر گئی تھی۔ مجھے انہی گھر لوٹتے ہوئے شہری دانشور گوریلوں میں سے کسی نے بتایا تھا۔ ’چاندنی رات اور خچر کی آواز کو ہم بڑاخطرہ سمجھتے تھے اور اس لیے خچروں کے منہ باندھ لیا کرتے تھے‘ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا تھا۔

لیکن ان میں سے ایک نے پہاڑوں پر اپنے گوریلا زندگی پر مصنف وی ایس نائپال کو بتایا تھا ’پہاڑوں پر عورت سے جنسی تعلقات رکھنا گوریلا جنگ سے بھی زیادہ خطرناک تھا‘۔

بلوچستان پر پاکستان کی اسی فوج کشی میں تقریبا دو ہزار پاکستانی فوجی اور عطااللہ مینگل کے بیٹے اسد اللہ اور گل خان نصیر کے بھائی لونگ خان نصیر سمیت ہزاروں بلوچ ہلاک، ہزاروں مکانات تباہ، کئی قبائل جلاوطن ہوئے۔ مری کوھلو علاقوں سمیت کئی بلوچی عورتیں اور ان کے مال مویشی نیلام کیے گئے۔ ارض بنگال کے بعد پاکستانی فوج کی انسانیت کے خلاف یہ سب سے بڑی واردات تھی۔

لیکن پھر بھی بلوچ قوم پرستوں نے افغان جنگ اور خاص طور پر ’ایرانی انقلاب‘ کے دہانے پر رہتے ہوئے بھی کبھی اسلامی شدت پسندی کو گلے نہیں لگایا اور نہ ہی کسی رجعت پسند status quo کے حامی بنے ہیں۔ اس خطے کے ترقی پسند جنرل مشرف کے ریاکار لبرل ازم سے زیادہ لبرل ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد