BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی کے بگڑتے حالات
 

 
 
راچی کے حالات ایک بار پھر ابتری کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں
کراچی کے حالات ایک بار پھر ابتری کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں
کراچی کے حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں۔ اس کا احساس مجھے چند دن کراچی میں گزارنے کے بعد ہی ہوا۔ کراچی میں ایک سائنسی نمائش میں شرکت کے لیے گئی تھی ۔ جس دن وہاں پہنچی اس دن ایک بم دھماکے کی اطلاع آئی ۔ یوں تو کراچی جیسے شہر کے لیے یہ معمولی بات ہے مگر یہ سب کچھ جب آپ کے ارد گرد ہورہا ہو اور آپ کو معلوم ہو کہ راستے میں چلتے پھرتے معصوم لوگوں ہی میں سے کچھ ایسی درندگی کا شکار ہوجائیں گے تو خوف کچھ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو تھا کراچی میں کئی سالوں کے بعد گزارا ہوا پہلا دن۔ دوسرے دن دو دھماکے ہوئے جس میں کئی جانیں گئیں۔

یہاں کے رہنے والے مقامی افراد سے ذکر ہوا تو کہنے لگے معمولی بات ہے، یہ تو ہوتا رہتا ہے۔ لوگ پے درپے پیش آنے والے واقعات سے بے حس یا پھر شاید نڈر ہوتے جارہے ہیں۔

جس روز مجھے نمائش میں شرکت کے پہلے روز کراچی کے ایکسپو سنٹر جانا تھا، اس دن تو سکیورٹی کے خاص انتظامات تھے۔


لیکن یہ اتنے خاص ہوں گے مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ میں جب باہر نکلی تو معلوم ہوا کہ پولیس کا ایک موبائیل سکواّڈ میرے ساتھ ایکسپو سنٹر جائے گا۔ مجھے عجیب لگا۔ پتا نہیں یہ اچھی بات تھی یا بری کیونکہ میں نے ایسے سکواّڈ یا تو سیاستدانوں کے ساتھ یا پھر اعلٰی افسران کے ساتھ جاتے دیکھے تھے یا پھر ہنگامی حالات میں شہر میں گھومتے پھرتے۔ پتا نہیں مجھے خوش ہونا چاہیے تھا کہ میرے لیے یہ انتظامات کیے گیے جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا یا پھر شہر کی صورتحال کے سنگین ہونے پر پریشان؟ کچھ دیر تو مجھے کچھ ٹھیک ہی لگا کیونکہ یہ پولیس موبائیل کسی کو گاڑی کے قریب پھٹکنے نہیں دے رہے تھے مگر جب میں نے سڑک پر ہر طرح کے خوف سے بے نیاز چلتے پھرتے لوگوں عورتوں مردوں اور بچو ں کو دیکھا تو احساس ہوا کہ یہ زیادتی ہے۔ حالات ہر ایک کے لیے خراب ہیں اور سب ہی انسان ہیں۔ کوئی کاروبار نہیں رکتا، کوئی دھماکوں کے خوف سے اپنی محنت مزدوری نہیں چھوڑتا، مائیں اپنے بچوں کو سکول جانے سے نہیں روکتیں، بازار نہیں بند ہوتے ، تو گویا کاروبار زندگی رواں رہتا ہے۔

نمائش میں آنے والے غیر ملکیوں کی حیرت کا تو عجیب عالم تھا۔ جب انہوں نے خصوصی طور پر فراہم کی گئی بس سروس کے پیچھے موبائیل پولیس سکواڈ دیکھا تو ان کے چہروں پر خوف کے تاثرات تھے۔ کچھ نے تو کئی تصاویر کھینچ کر موقع کی نزاکت کو اپنے پاس محفوظ کرلیا۔

شہر میں ہر طرف پولیس موبائیل، رینجرز اور سکیورٹی کے دیگر اہلکار نظر آئے۔ لوگ کم اور پولیس زیادہ۔رہائشی علاقوں کی گلیوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں تاکہ گاڑیاں گلیوں میں داخل نہ ہوسکیں اور شاید اس طرح دھماکے کچھ کم ہوسکیں۔ ایسی رکاوٹیں میں نے شہر میں دس سال پہلے دیکھی تھیں جب میں یہاں آئی تھی۔ افسوس سا ہوا کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ویسی سی سکیورٹی، وہی رکاوٹیں، وہی رینجرز اور وہی الطاف حسین کی تصویریں ۔

سکیورٹی کے اتنے انتظامات پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ہیں مگر پھر بھی سکیورٹی کی خلاف ورزی کیسے ہوجاتی ہے۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے تو شاید پھر یہ مسئلہ سرے سے ہی ختم ہوجائے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد