BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 August, 2004, 10:45 GMT 15:45 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کاروائی کا خطرہ: چھٹیاں منسوخ
 

 
 
حکومتی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی: مدارس
حکومتی کاروائی کے خدشے کے پیش نظر پاکستان کے دارلحکومت،اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے ایک مکتبہ فکر کے علماء نے دینی مدارس کی سالانہ چھٹیاں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان بدھ کی دوپہر مذہبی سرگرمیوں کے مرکز لال مسجد کے اندر ایک اخباری کانفرنس میں جمیعت اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنما قاری سعید الرحمٰن اور دیگر نے کیا۔ اس موقعہ پر ان کے بقول چکوال، اٹک کہوٹہ، مری اور دیگر شہروں کے مدارس و مساجد کے خطیب و علماء بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی مہینوں شعبان اور رمضان میں مدارس کی سالانہ چھٹیاں ہوتی ہیں جو اس سال نہیں کی جائیں گی تاکہ کسی ادارے کو لال مسجد، جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفصہ پر کوئی کاروائی کرنے کی جرات نہ ہوسکے۔

چند روز قبل حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ القائدہ کے حامی شدت پسندوں نے امریکی سفارتخانہ، پارلیمینٹ ہاؤس، فوجی ہیڈ کوارٹر’جی ایچ کیو، اور دیگر اہم عمارتوں کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور منصوبہ سازوں کو لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی نے مکمل تعاون فراہم کیا تھا۔

ایسے الزامات کے بعد لال مسجد اور اس سے ملحقہ خواتین کے مدرسے حفصہ پر چھاپہ بھی مارا گیا تھا لیکن لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی عبدالرشید غازی غائب ہوگئے تھے۔

علماء نے اخباری کانفرنس میں حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کو فوری برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر داخلہ تو صدر جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر سب کچھ کر رہے ہیں اور آپ کی ان کے لیے کیا رائے ہے تو سانس لینے کے بعد قاری سعید الرحمٰن نے کہا کہ ان کے خلاف بھی وقت آنے پر علماء کلمہ حق کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفصہ میں حکومتی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر حکومت نے کوئی قدم اٹھایا تو حالات کی خرابی کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔

شدت پسندوں سے تعاون کے الزامات کے بعد حکومت نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو برطرف کرکے ان کی جگہ نئے خطیب کی تقرری کی ہے۔ اس تقرری کو مسترد کرتے ہوئے علماء نے کہا کہ نمازی، علماء اور طلباء کسی قیمت پر نئی تقرری قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ موجودہ خطیب کے والد مرحوم مولانا عبداللہ بھی اس مسجد کے چونتیس برس تک خطیب رہ چکے ہیں اور انہیں نا معلوم مسلح افراد نے مسجد کے احاطے میں ہی قتل کردیا تھا۔

امریکہ کے طالبان پر حملوں کے وقت لال مسجد طالبان اور القائدہ کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کا مرکز ہوتا تھا۔ لیکن جب کانفرنس کے موقع پر علماء سے پوچھا گیا کہ اب وہ القائدہ کے متعلق کیا سوچ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ القائدہ کو نہیں جانتے، البتہ انہوں نے ساتھ ہی الزام لگایا کہ القائدہ امریکہ نے بنائی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا جمعہ ستائیس اگست کو اسلام آباد اور راولپنڈی کی مساجد سے احتجاجی قرار دادیں منظور کی جائیں گی جبکہ اٹھائیس اگست کو کراچی میں ملک بھر کے دینی مدارس کی مرکزی تنظیم اور چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوگا جس میں ملک بھر میں احتجاجی تحریک کے لیے حکمت عملی بنائی جائے گی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد