BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 25 October, 2004, 09:30 GMT 14:30 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
نئے پاسپورٹوں کا اجراء شروع
 

 
 
پاسپورٹ
حکومت پاکستان نے جعل سازی کو روکنے کے لیے پچیس اکتوبر سے نئے اور مشین سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ کا اجراء شروع کردیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ شفقت حسین نغمی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نیا پاسپورٹ جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ اور تمام تیکنیکی جدتوں سے آراستہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیا پاسپورٹ فی الوقت ملک کے پانچ بڑے شہروں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے نو دفاتر سے جاری کیے جائیں گے۔

کراچی میں چار دفاتر جبکہ باقی شہروں میں ایک ایک دفتر سے نئے پاسپورٹ جاری ہوں گے۔

مسٹر نغمی کے مطابق آئندہ سال جون تک ملک بھر کے تمام شہروں سے مشین سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ کا اجراء ہوگا اور ہاتھ سے جاری ہونے والے پاسپورٹ کا اجراء جون میں ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ جون تک دنیا کے دس ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانے جن میں دبئی، جدہ، دلی، روم، لندن، اوسلو، فرینکفرٹ، ٹورنٹو، لاس ایجلز اور واشنگٹن شامل ہیں، نئے پاسپورٹ جاری کرنے کی سہولت فراہم کریں گے۔ بیرون ممالک قائم تمام یعنی 89 مشنز میں یہ سہولت ایک سال کے اندر فراہم کی جائے گی۔

نئے پاسپورٹ کے اجراء کے موقع پر پچیس اکتوبر کو بیشتر اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار بھی شائع کیے گئے ہیں، جس میں نئے پاسپورٹ بنوانے کا طریقہ کار اور مطلوبہ دستاویزات ساتھ لانے اور درخواست دینے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیا ’مشین ریڈ ایبل‘ یا مشین سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ سے پاکستانی شہریوں کو دنیا بھر میں سفر کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔شفقت حسین نغمی کے مطابق مشین سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ پر یورپی اور دیگر اہم ممالک کا ویزہ بھی آسانی سے مل سکتا ہے۔

ان کے مطابق نئے پاسپورٹ کا بنیادی مقصد جعلسازی کو روکنا ہے اور اس سے دنیا میں پاکستان کو اہم مقام ملے گا کیونکہ اس پاسپورٹ میں متعدد عالمی معیار کے نئے اورخفیہ سیکورٹی کے’فیچرز‘ بھی شامل ہیں۔

نیا پاسپورٹ بنوانے کے لیے متعلقہ شخص کو خود دفتر آنا ہوگا۔کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی، بچوں کے اندراج کی صورت میں مخصوص فارم جسے’ب فارم‘ کہتے ہیں وہ بمع فوٹو کاپی لانا ہوگا۔

درخواست گزار کی انگلیوں کے نشانات بھی لیے جائیں گے جبکہ’بائیو میٹرک ڈجیٹل کیپچر‘ طریقہ کار سے موقع پر ہی تصویر لی جائے گی اور تمام کوائف کا اندراج بھی کیا جائے گا۔

اندراج مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کو اپنے کوائف کے حامل درخواست فارم کی نقل فراہم کی جائے گی اور درست ہونے کی صورت میں جب درخواست گزار دستخط کرکے فارم واپس کریں گے، متعلقہ عملہ انہیں رسید فراہم کرے گا۔

عام درخواست کی فیس پندرہ سو روپے ہوگی جبکہ فوری پاسپورٹ بنانے کی فیس چار ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے اندراج کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاسپورٹ ان کا انٹرویو لیں گے جس کے بعد ان کی درخواست قبول یا مسترد کرنے کا حکم جاری کیا جائے گا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد