BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 December, 2004, 18:05 GMT 23:05 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
آن لائن فاتحہ پڑھیئے
 

 
 
وادئی حسین کی ویب سائیٹ
وادئی حسین قبرستان کی انٹرایکٹیو ویب سائیٹ
مسلمانوں کے قبرستان کا تصور ذہن میں آتے ہی بے ترتیب کچی مٹی کے ڈھیروں پر پڑے کُچھ سوکھےگلاب کے پھولوں کے ساتھ ساتھ ادھ جلی اگربتیاں اور مختلف رنگ، حجم اور لکھائی کے کتبے بھی ذہن آتے ہیں۔

لیکن کراچی سے ذرا باہر نیشنل ہائی وے پر واقع وادئی حسین نامی قبرستان، قبرستان کے لفظ کے ساتھ لازم و ملزوم تمام سابقہ تصورات کی مکمل نفی کردیتا ہے۔ وادئی حسین ایک ایسا قبرستان ہے جس کی ویب سائٹ پر وڈیو سٹریمنگ کے ذریعےدنیا کے کسی بھی کونے سے جنازے میں شرکت کی جاسکتی ہے۔

اب تک 1650 آباد قبروں پر مشتمل اِس قبرستان کی مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والی انٹر اکٹیو ویب سائیٹ پر نام یا ہر قبر کو الاٹ کئے گئے انفرادی نمبر کے ذریعے مطلوبہ قبر باآسانی تلاش کی جاسکتی ہے جس کے بعد آپ نہ صرف اِس خاص قبر کے مکین کے تمام کوائف جان سکتے ہیں بلکہِ قبر کی تصویر بھی سکرین پر آجاتی ہے جس پر قبرستان کے نگراں سید محمد عالم زیدی کے مطابق آپ ایصال ثواب کے لیے فاتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

وادئی حسین قبرستان
وادئی حسین کا ایک منظر

اس جدید قبرستان کاخیال سب سے پہلے مرحوم حاجی محمد یوسف نقوی کو آیا جبکہ اِس کا قیام 1999 میں دو بھائیوں، شیخ سخاوت علی اور شیخ یاور علی کی مالی اعانت سے ہوا۔ اس قبرستان میں پہلی تدفین سن 2000 میں ہوپائی۔ آجکل یہاں کا انتظام ایک ٹرسٹ چلاتا ہے ۔ وادئی حسین کے نگراں ، سید محمد عالم ذیدی کا کہنا ہے کہ ’ہمارا قبرستان اتنا اچھا ہے کہ اِس کو دیکھ کر مرنے کا جی چاہتا ہے۔‘

عالم زیدی صاحب سے پوری طرح اتفاق تو نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ درست ہے کہ پاکستان کے روائتی قبرستانوں کی دگرگوں حالت دیکھتے ہوئے وادئی حسین اِس دارفانی سے کوچ کرجانے والوں کو وہ عزت و تکریم ضرور بہم پہنچاتا ہے جس کی روایت مرنے والوں کے لیے مختلف صورتوں میں دنیا کے کم وبیش تمام ہی مذاہب اور معاشروں میں موجود ہے۔

12 ایکڑ پر محیط اِس قبرستان میں 57 ہزار قبروں کی گنجائش ہے جو کہ اگلے 100 سال کے لیے کافی ہے جبکہ گزشتہ 4 سالوں میں اب تک 1650 قبریں آباد ہوچکی ہیں۔

شہر کراچی میں حکومت کے زیرِانتظام بیشتر قبرستان نہ صرف بد انتظامی کا شکار ہیں بلکہ اِن میں سے کئی کوجرائم پیشہ یا منشیات کے عادی افراد بطور جائے پناہ استعمال کرتے ہیں۔ مسٹر عالم زیدی نے بی بی سی کو بتاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ صفائی ستھرائی اور ایک مربوط پلاننگ کے تحت قبروں کے یکساں سائز اور شکل کے ساتھ ساتھ قبرستان میں مناسب روشنی اور سکیورٹی کا انتظام ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور اُس کا منفرد استعمال یہیں ختم نہیں ہوجاتا۔ 1000 روپے کی اضافی رقم ادا کرکے آپ وڈیو سٹریمنگ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے سے تدفین براہ راست دیکھ کر اُس میں شریک بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر اس کو آپ ’شریک‘ ہونا کہہ سکیں تو۔

اسلام کو ایک قدیم تناظر میں دیکھنے والے کچھ افراد کے علاوہ اِس جدید تدفین کی سہولت کو زیادہ تر لوگوں نے ایک خوشگوار سنگ میل قرار دیا ہے۔

وادئی حسین میں قبریں
ان قبروں کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر موجود ہے

کنگز کالج ، لندن کے ایک پاکستانی طالب علم، ذیشان حیدر نے، جن کی نانی اس قبرستان میں مدفون ہیں بی بی سی کو بتایا، ’مجھے کم از کم یہ اطمینان ہے کہ جب میرے بچوں کے بچے یہاں آ کر میری نانی کی قبر پر فاتحہ پڑھنا چاہیں گے تو نانی کی قبر پر کسی اور کو نہیں دفن کیا جاچکا ہوگا۔‘

حجاز کالج، ننیٹن، برطانیہ کے پرنسپل اور مسلمان سکالر، بیریسٹر، فیض صدیقی کہتے ہیں، فاتحہ کی ترسیل کا اللہ تعالی کا جو اپنا نظام ہے وہ کسی انٹرنیٹ کا محتاج نہیں ۔ لیکن یکسوئی کے لیے اگر کوئی اِس ویب سائیٹ کو استعمال کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

وڈیو سٹریمنگ کے ذریعے جنازے میں شرکت کے سوال پر مسٹر صدیقی کا کہنا تھا، ’غائبانہ نمازِ جنازہ پر کوئی قید نہیں کہ وہ کتنی دفعہ اور کتنی مختلف جگہوں پر پڑھی جائے۔ لہازا وڈیو سٹریمنگ کے زریعے نماز جنازہ میں شرکت غائیبانہ نماز جنازہ ہی ہوگی اور اس میں قطعًا کوئی حرج نہیں۔‘

ان تمام سہولیات کے باوجود یہاں ایک قبر کی قیمت 5000 ہزار روپے ہے۔ اِس رقم میں کتبہ اور گلیزڈ ٹائیلز بھی شامل ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ قبرستان مسلمانوں کے کسی ایک فرقے کے لئے مختص ہے؟ مسٹر عالم زیدی نے کہا ’جی ہاں فی الوقت یہ صرف اثناء عشری مسلمانوں کے لئے ہے لیکن مستقبل میں دوسرے مسلمان فرقوں کو بھی یہاں جگہ دینے کے بارے میں ہم غور کررہے ہیں۔‘

مسلم پارلیمنٹ، برطانیہ کے چئیرمین غیاث الدین صدیقی کا کہنا تھا، کل کا سائینس فکشن آج ہماری روزمرہ زندگی میں شامل ہوتا ہے۔ اِس وقت شاید ہمیں عجیب لگے لیکن مستقبل میں ٹیکنالوجی کا اس طرح کا استعمال شاید ہمیں اتنا غیر معمولی محسوس نہ ہو۔

 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد