BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 December, 2004, 14:04 GMT 19:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
چوبیس دسمبر کو ملک گیر احتجاج
 

 
 
راولپنڈی کے جسلے میں مولانا فضل الرحمان نے شرکت نہیں کی
راولپنڈی کے جسلے میں مولانا فضل الرحمان نے شرکت نہیں کی
مذہبی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل‘ نے اعلان کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اگر وردی نہیں اتاری تو چوبیس دسمبر کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور یکم جنوری کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔

یہ اعلان قاضی حسین احمد نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے قوم کو نجات دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا مانگی اور انہیں فوجی عہدے سے ہٹانے تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

جلسے میں مولانا فضل الرحمٰن شریک نہیں ہوئے۔ ان کی جماعت کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد میں ہی تھے لیکن ’بارش‘ کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی غیر حاضری پر سیاسی حلقوں میں حیرانی ظاہر کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ چند دن قبل حکومتی نمائندوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کرکے صدر کی فوجی وردی کے خلاف تحریک نہ چلانے کے بارے میں بات کی تھی۔

ان کی عدم شرکت سے وہ قیاس آرائیاں مزید زور پکڑ سکتی ہیں جن کے مطابق فوجی وردی کے معاملے پر وہ نرم گوشہ رکھتے ہیں جبکہ قاضی حسین احمد نے سخت گیر موقف اختیار کر رکھا ہے۔

جلسے میں شرکاء کی تعداد کراچی اور لاہور میں منعقد کردہ مجلس کے حالیہ جلسوں کے مقابلے میں تعداد خاصی کم لگ رہی تھی۔ جلسے میں جماعت اسلامی کے کارکنان کی تعداد زیادہ تھی جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت’جے یو آئی‘ کے کارکن بھی کم کم نظر آئے۔

مجلس عمل کے اس جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی زمرد خان جبکہ مسلم لیگ نواز کے صدیق الفاروق شریک ہوئے لیکن وقت کی کمی اور بارش کی وجہ سے انہیں تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

اس موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ جبکہ مقررین نے صدر کی جانب سے داڑھی اور برقعہ کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیانات کی مذمت کی گئی۔

واضح رہے کہ صدر نے کہا تھا کہ انتہاپسندی کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی اور زبردستی داڑھی رکھنے یا خواتین کو برقعہ اوڑھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

قاضی حسین احمد نے کہا ’مسئلہ فوجی وردی نہیں بلکہ پرویز مشرف ہے جسے آرمی چیف کے منصب سے ہٹانے تک وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘ انہوں نے کہا امریکی صدر بش بے شک انہیں تھپکی دیں کہ وہ بہادر ہیں لیکن اللہ اور عوام کی پکڑ سے صدر مشرف کو امریکی صدر بھی نہیں بچا سکیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے نظام اور نصاب تعلیم تبدیل کرکے پاکستان میں ایسی نسل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اسلام سے بیگانہ ہو اور مغربی معاشرے کی تقلید کرے۔ قاضی حسین احمد نے پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے اور نصاب کی تبدیلی کو مذہب میں مداخلت قرار دیا اور کہا کہ وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کشمیر میں جہاد کرنے والوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ادھر سے بھارت مجاہدین کو مار رہا ہے اور اِدھر سے صدر مشرف انہیں مارتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر مشرف نے کشمیری مجاہدین کے ساتھ غداری کی ہے اور مجاہدین کو تنہا کردیا ہے۔

حافظ حسین احمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تو بے نقاب ہوکر آ، تو نے فوجی وردی کا برقعہ پہنا ہے جسے وہ عوام کی طاقت سے اتاریں گے۔‘

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد