http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 24 December, 2004, 01:22 GMT 06:22 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

پاکستان: ’مذہب کیوں نہیں پوچھا؟‘

پاکستان میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتیں نئے پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کو خارج کیے جانے کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو یومِ احتجاج منا رہی ہیں۔

مساجد میں جمعہ کے اجتماعات میں حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کانشانہ بنایا جائے گا اور مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔

حکومت نے چند مہینے پہلے نئے پاسپورٹ جاری کرنے کا سلسلے شروع کیا جو مشین کے ذریعے پڑھے جا سکتے ہیں۔ ان پاسپورٹوں میں لوگوں سے ان کے مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔

مذہبی جماعتوں نے اس حکومتی فیصلے کو ملک کو ’لادینی ریاست بنانے کی ایک کوشش‘ قرار دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان امیر العظیم نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ایم ایم اے کے قائدین احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔

یوم احتجاج منانے کا فیصلہ ایک ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں کیا گیا تھا اور اس کا اعلان قائد حزب اختلاف اور چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

اس اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی ۔

اس اجلاس میں کہاگیا تھا کہ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے دباؤ پر خارج کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے تیس سال پہلے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیر مسلم قرار دیدیا تھا۔

جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس بات پر اعتراض ہے کہ انہیں غیر مسلم قرار دیا جاتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کی صورت میں جماعت احمدیہ کے لوگوں کو واضح طور پر غیر مسلم لکھا جاسکتا ہے اور ان کی بطور غیر مسلم شناخت واضح ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں حزب اختلاف کی ایک بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی نے اس حکومتی فیصلے کی حمایت کی ہے اور وہ دعوت کے باجود آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شریک نہیں ہوئی تھی اور پیپلز پارٹی کے ترجمان نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کے ختم کیے جانے کے حق میں ہے۔

دوسری طرف حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین یہ بیان جاری کر چکے ہیں کہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا موجود رہنا ضروری ہے۔