BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 10 January, 2005, 13:12 GMT 18:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
امریکی سفیر کو نکالو: مجلس عمل
 

 
 
ایم ایم اے
امریکی سفیر پاکستان کے مذہبی اور آئینی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں: حافظ حسین احمد
مذہبی جماعتوں کے چھ رکنی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکالا جائے۔

پیر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد نے کہا کہ امریکی سفیر نے کچھ سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ پاسپورٹ میں مذہبی خانے کے مسئلہ پر ایم ایم اے کا ساتھ نہ دیں اور یہ کہ امریکہ مجلس عمل کی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ امریکی سفیر پاکستان کے مذہبی اور آئینی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں اس لیے انہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکالا جائے۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ اس لیے بحال نہیں ہورہا کہ یہ پارلیمینٹ اور حکومت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ صدر پرویزمشرف اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران مسلم لیگ کے صدر شجاعت حسین اور وفاقی وزیر مذہبی امور اعجازالحق کہہ چکے ہیں کہ اسے بحال کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن صدر مشرف نے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لیے اسے پاسپورٹ سے ختم کیا۔

مجلس عمل کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ پر اردو میں تو ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا گیا ہے جبکہ انگلش میں صرف پاکستان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ختم کرنے کی جسارت نہ کی جائے۔

حافظ حسین احمد نے الزام لگایا کہ صدر پرویز مشرف اس لیے ودری نہیں اتار رہے کہ اس طرح اختیارات پارلیمینٹ اور وزیراعظم کو منتقل ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ جمعہ کو مجلس عمل لاہور، پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کرے گی جن کی قیادت مجلس عمل کے مرکزی رہنما کریں گے۔

مجلس عمل کے رہنما نے کہا کہ اے آر ڈی اپنے بارہ جنوری کے سربراہی اجلاس میں وردی کے معاملہ پر مجلس عمل کی تحریک میں شرکت کے معاملہ پر فیصلہ کرے گی جس کی روشنی میں مجلس عمل چار فروری کو آئندہ لائحہ عمل تیار کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک اے آر ڈی کا شکوہ تھا کہ مجلس عمل نے احتجاج کا شیڈول بناتے ہوئے اسے اعتماد میں نہیں لیا اس لیے اب وہ شیڈول دیں گے اور مجلس عمل دیکھے گی کہ اس پر کیسے چلا جائے۔

اب تک متحدہ مجلس عمل کی احتجاجی تحریک لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے میں ناکام رہی ہے اور گزشتہ دو احتجاجی مظاہروں میں مدرسوں کے صرف چند درجن کارکن شریک ہوئے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد