BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 28 January, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ریپ کی تصدیق
 

 
 
کراچی پولیس نے سوئی میں لیڈی ڈاکٹر کی آبرو ریزی کی تصدیق کردی ہے۔
کراچی کے پولیس سرجن نے طبی معائنے کے بعد اپنی رپورٹ میں صوبہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں خاتون ڈاکٹر شازیہ خالد کی آبرو ریزی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

پولیس سرجن نے صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے سیکریٹری کو ایک خط لکھا ہے جس کے ساتھ ’میڈیکل رپورٹ، کی کاپی بھی ارسال کی ہے، جس میں یہ تصدیق کی گئی

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے ڈاکٹر شازیہ خالد کی آبروریزی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی قائم کر رکھی ہے جو متعلقہ حکام اور افراد کے بیانات قلمبند کرچکی ہے۔

کراچی پولیس سرجن کی رپورٹ میں خاتون ڈاکٹر کی عزت لوٹنے کی تصدیق تو کی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آبروریزی کس نے کی۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے پولیس چیف غلام محمد ڈوگر ڈاکٹر شازیہ کو سول ہسپتال کراچی میں لائے اور بتایا کہ تیرہ جنوری کو ان پر جنسی تشدد کیا گیا ہے۔ سینیئر میڈیکل لیگل آفیسر ڈاکٹر روحینا حسن نے انہیں ہسپتال میں داخل کیا اور ان کا معائنہ کیا۔

معائنہ کرنے والی ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ جنسی تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے جسم پر آٹھ بیرونی زخم بھی تھے۔

واضح رہے کہ مقامی لوگ خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی، کے کیپٹن حماد کو ڈاکٹر شازیہ خالد پر جنسی تشدد کرنے میں ملوث قرار دے رہے ہیں جبکہ متعلقہ کیپٹن نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

ڈاکٹر شازیہ خالد کے مبینہ ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کے بعد مشتعل مقامی لوگوں نے سوئی میں گیس کی تنصیبات پر حملہ کیا تھا جس سے نہ صرف ملک بھر میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی تھی بلکہ متعلقہ کمپنیز کو کروڑوں روپوں کا نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔

بلوچستان میں اس واقعے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی تھی اور صوبائی حکومت کو فوج طلب کرنی پڑی تھی۔ اب بھی اطلاعات کے مطابق بگٹی قبائل اور سیکورٹی اینجنسیز کے بیسیوں مسلح لوگ علاقے میں مورچہ زن ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد