BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 07 February, 2005, 17:25 GMT 22:25 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بارکھان میں ٹیلی فون اسٹیشن تباہ
 

 
 
بارکھان میں دھماکے کی ذمہ داری بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ نے قبول کر لی ہے
بارکھان میں دھماکے کی ذمہ داری بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ نے قبول کر لی ہے
صوبہ بلوچستان کے شہر بارکھان کے قریب نا معلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے ٹیلی فون کا ایک ریپیٹر سٹیشن تباہ کر دیا ہے جس سے بارکھان کا مواصلاتی رابطہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو گیا ہے۔ ادھر کوئٹہ کے مضافات میں ایک دھماکہ ہوا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

بارکھان کوئٹہ سے کوئی ساڑھے تین سو کلومیٹر مشرق میں واقع ہے جہاں سوموار کی صبح زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے سے ٹیلیفون کا ریپیٹر سٹیشن تباہ ہوگیا ہے۔ اس سٹیشن میں دھماکے سے ٹاور کنٹرول روم بیٹریز اور شمسی توانائی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا ہے۔لورالائی سے لیویز کے ڈائریکٹرانجم ندیم منہاس نے بی بی سی کو بتایا ہے سوموار کو صبح کے وقت ٹیلی فون کا عملہ اسی سٹیشن میں مرمت کے لیے گیا تھا ان کے جانے کے تھوڑی دیر بعد یہ دھماکہ ہوا ہے۔ تا حال یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کارروائی کن لوگوں نے کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی سی ایل کے حکام کے مطابق اس دھماکے میں کوئی چار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلی فون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بارکھان میں دھماکے کی ذمہ داری بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ قبول کرتی ہے۔ آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ وہ ان تنظیموں کے نشرواشاعت کے سیکرٹری ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل کوہلو کے علاقے میں ٹیلی فون کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا تھا جسے تاحال بحال نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ بجلی کی تنصیبات کو بھی انہی علاقوں میں نقصان پہنچایا گیا تھا۔

ادھر آج کوئٹہ کے مضافات میں سبزل روڈ پر ایک دھماکہ ہوا ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ ایک ویران علاقے میں کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔نیم فوجی دستے کے اہلکار علاقے میں گشت کر رہے ہیں اور بعض شہریوں نے کہا ہے کہ گیس کمپنی کے ملازمین کے بلا وجہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ سوئی میں چھاونی کے قیام کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد