BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 February, 2005, 09:34 GMT 14:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’دعویٰ ہے کیپٹن حماد ملوث نہیں‘
 

 
 
صدر جنرل پرویز مشرف
جنرل پرویز مشرف نے کیپٹن حماد کو بری الزمہ قرار دیا ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو پھانسی دے دینی چاہیے لیکن انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ’میں سو فیصد یقین اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس میں کیپٹن حماد ملوث نہیں ہے‘۔

جمعرات کے روز ایوان صدر میں ذرائع ابلاغ کےنمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنے بتایا کہ ڈاکٹر شازیہ کیس میں کافی نئے شواہد سامنے آئے ہیں اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ ملزم وردی والا ہو یا بغیر وردی کے وہ سزا سے بچ نہیں پائےگا۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ عدالتی کمیشن اس پر رپورٹ دینے والا ہے۔ اس بات کا احساس ہوتے ہوئے بھی صدر نے کیپٹن حماد کو ایسے وقت میں بری الذمہ قرار دیاہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری شدت پسند کارروائیوں کے متعلق کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ان کی حکومت میں ہو رہے ہیں اور پھر بھی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کہیں میرے خلاف سازش ہے، علاقائی سازش ہے یا عالمی اسے دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ میں لوگوں کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں نیچے نہیں، شاید ان کے بقول ان سرداروں کو ایسا پسند نہیں۔ صدر نے بتایا کہ چین کے وزیراعظم گوادر کے افتتاح کے لیے آرہے ہیں اور جلد ہوگا۔

صدر نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ اربوں روپے بلوچستان میں خرچ ہورہے ہیں۔ انہوں نے فوج سمیت مختلف شعبوں میں مقامی لوگوں کو روزگار دیا گیا ہے اور انہیں تربیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے صوبائی خودمختاری کا ذکر کیا اور کہا کہ آئین سے ’ کنکرنٹ لسٹ‘ ختم ہونی چاہیے۔ صدر نے کہا کہ صوبوں کو وفاق سے بھیک نہیں مانگنی چاہیے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ صوبوں کا حصہ بڑھا رہے ہیں اور مالیاتی ایوارڈ میں اسے شامل کریں گے۔تاہم انہوں نے صوبہ سندھ کا موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس صوبے سے جتنی زیادہ آمدن ہو اسے اس بنیاد پر حصہ نہیں ملنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر سال پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ہر سال بارہ کروڑ روپے بگٹیوں کو دیتی ہے۔ انہیں گاڑیاں اور مفت پٹرول اور دیگر سہولتوں مہیا کرتی ہے لیکن دوسری طرف ان کے مطابق سوئی گیس کے پلانٹ کو تباہ کرنے کے لیے راکٹ اور جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔

انہوں نے بلوچوں کو محب وطن اور بہادر قرار دیا اور کہا کہ پچھہتر سرداروں میں سے صرف دو نے مسئلہ پیدا کیا ہے۔ صدر نے واضح کیا کہ بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہوگا لیکن جو نجی فوج بناتے ہیں اور درجنوں کیمپ بنائے گئے ہیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق کیمپ میں جانے والوں کو تین سے پانچ ہزار ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے اور جدید اسلحہ کی تربیت ملتی ہے۔

انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اگر گڑ بڑ کرنے والے بلوچ بہادر ہیں تو انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھی بہادر ہوں اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے بند نہیں کریں گے۔

صدر نے اقتصادی بہتری کا تفصیل سے ذکر کیا اور اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت خاصی مضبوط ہورہی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں اتنی ترقی نہیں ہوئی۔

صدر نے بسنت کے میلوں کے انعقاد اور نیکر پہن کر دوڑ میں خواتین کی شرکت کی کھل کر حمایت کی اور ان اقدامات کی مخالفت کرنے والوں پر انہوں نے سخت تنقید کی۔ کسی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنی بیٹیوں کو نیکر پہن کر گھومنے والوں کے ممالک میں بھیجتے ہیں انہیں تنقید نہیں کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل کے رہنماء قاضی حسین احمد نے ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک پروگرام میں نیکر پہن کر دوڑنے کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے اپنی ابتدائی بیان میں کہا کہ وہ انتہا پسندی کے متعلق بات کرنے کے عادی ہوچکے ہیں اور یہ ضروری بھی ہے کہ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ان کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت ہے اور ان تینوں کو ختم کرنا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے میڈیا سے تعاون بھی طلب کیا۔

صدر نے القاعدہ کے حوالے سے بتایا کہ کئی دہشت گرد مار دیے گئے ہیں، سات سو غیرملکی گرفتار ہوچکے ہیں اور ان کے رابطے اور کارروائیوں کے ٹھکانے ختم کردیے گئے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اب بھی تھوڑے بہت ہوں گے جن کا حکومت پیچھا کر رہی ہے اور انہیں بھی ختم کردے گی۔

انہوں نے بتایا کہ القاعدہ اور ان کے ساتھیوں کے ’ماسٹر مائنڈ‘ اور منصوبہ سازوں کا خاتمہ کیا گیا ہے، باقی اسامہ کہاں ہیں یہ کسی کو پتہ نہیں ۔

صدر نے سیکورٹی ایجنسیز کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ جو لوگ مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں انہیں روکنا ہے اور اس میں عام آدمیوں کا تعاون چاہیے۔ انہوں نے نمازیوں پر زور دیا کہ وہ غلط بات کرنے والے پیش اماموں کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔

جوہری معاملات کے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری ملک ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام انتہائی محفوظ ہے اور کسی کو آنے نہیں دیں گے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سے کسی اور کو پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دیں گے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر پر کوئی لچک نہیں دکھائی بلکہ اس کے لیے خیالات پیش کیے ہیں کہ اگر ہندوستان اپنے موقف سے پیچھے ہٹےگا تو پاکستان بھی ہٹے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سرینگر سے مظفرآباد تک بس سروس شروع کرنے کے لیے دونوں ممالک نے لچک دکھائی اور دونوں ممالک کی جیت ہوئی ہے۔

صدر نے ایک سوال پر پیپلز پارٹی سے ’ ڈیل‘ کے لیے رابطوں کی تصدیق کی لیکن یہ واضح کیا کہ اس میں دوہزار سات سے پہلے عام انتخابات کا انعقاد شامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیگم صاحبہ خود باہر گئیں ہیں انہیں واپس آنے سے کسی نے نہیں روکا اور ان سے واپس آنے کی بات نہیں ہورہی بلکہ دوہزار سات کے بعد ملک میں روشن خیال اعتدال پسند لوگوں کو اقتدار میں لانے کی بات ہورہی ہے۔

صدر نے کہا کہ وہ پاکستان میں انتہا پسند قوتوں کو آگے نہیں آنے دیں گے۔

صدر نے متحدہ مجلس عمل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ملین مارچ‘ کی بات چھوڑیں اس سے ملک کو نقصان ہوگا اور انہںی یقین ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔

صوبہ سندھ میں ایک وزیر کو بدعنوانی کے الزام کے تحت ہٹانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کارروائی کی ہے اور اس کا انہیں حق ہے۔وزیراعظم نے تحقیقات کے لیے اعلیٰ افسر بھیجا ہے اور جو وہ رپورٹ کریں گے اس پر کارروائی ہوگی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد