BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 04 March, 2005, 14:12 GMT 19:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مختاراں مائی’ فوری انصاف کا نشانہ‘
 

 
 
مختاراں مائی کے فیصلے نے حکومت کے فوری انصاف مہیا کرنے کے نظام پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
تین سال پہلے جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ کے گاؤں میرا والی میں جرگے کے فیصلہ پر مختاراں مائی کو ریپ کرنے کی خبر نے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔

جرگے کے فیصلے سے لے کر ہائی کورٹ کے فیصلے تک اس واقع نے پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کی کمی اور اس میں رائج طریقوں پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔

حکومت ایسے مقدموں میں میڈیا کی دلچپسی ہو کو ’فوری انصاف‘ کی عدالتیں میں بھجواتی ہے اور ان کا فیصلہ اکثر عوامی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے جن کو بعد میں اعلی عدالتیں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی نے اکتیس اگست سن دو ہزار دو کو پنچایت کے اراکین سمیت چھ ملزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

مختاراں مائی کو پنچایت کے حکم پر مخالف قبیلے کے لوگوں نے اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا تھا۔مختاراں مائی کا جرم یہ تھا کہ اس کے چھوٹے بھائی پر بلوچ قبیلے مستوئی کی کسی لڑکی سے تعلقات کا الزام تھا۔

لاہور ہائی کے ملتان بینج چھ میں سے پانچ کو بری کر دیا ہے اور ایک کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں لکھا ہے کہ ناقص گواہیوں اور غلط تحقیقات کی بنیاد پر دیئے گئے فیصلوں کو بحال رکھنا ممکن نہیں ہے۔

پاکستان میں یہ پہلا فیصلہ نہیں ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے فیصلوں کو اعلی عدالتوں نے اس طرح رد ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

پاکستان میں اعلی عدلیہ نے ہمیشہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں قائم کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے کیونکہ ان کے خیال ایسی عدالتیں ایک متوازی عدالتی نظام ہے جو حکومتی اثرو رسوخ میں ہے۔

فوری انصاف کی عدالتوں میں ججوں کا مقرر کرنا اور ان کو وہاں سے ہٹانا اور ان کی مراعات وزارت قانون کے افسران کے اختیار میں ہے۔

وکیلِ صفائی محمد سلیم نےاس موقع پر کہا کہ ’ انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ میڈیا اور حکومتی دباؤ کے نتیجے میں دیا گیا تھا۔‘

مختاراں مائی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور وہ اب ملک کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ سے رجوح کریں گی۔

اس طرح کے کئی مثالیں ہیں جن میں ملک کی اعلی ترین عدالت نے ہائی کورٹ کو فیصلے کو بدل دیا ہو لیکن اس کی بہت کم مثالیں ہیں جس میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ فیصلے کو یکسر رد کر دیا ہو۔

اسی طرح کے ایک فیصلے جس میں کہوٹہ کے گاؤں نارہ مٹور میں ایک امام مسجد قاری شریف نے اپنی بیوی زینب نور کے مخصوص اعضاء کو بجلی کے جھٹکوں سے تباہ کر دیا تھا، کو اسی طرح کی فوری انصاف فراہم کرنے والی عدالت نے قاری شریف کو تیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

قاری شریف کو سزا کو ہائی کورٹ نے تیس سال سے دس سال میں بدل دیا جس کے خلاف زینب نور نے، مختاراں مائی کی طرح، سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

سریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے قاری شریف کو بیس سال قید کا حکم سنایا لیکن اس وقت قاری شریف جیل سے بری ہو کر’ تبلیغ کے لیے گھر سے جا چکا تھا‘۔

قاری شریف اب تک قانون کی گرفت سے باہر ہے۔

مختاراں مائی کیس کے ملزمان جو تین سال سے جیل میں ہیں، کب رہا ہوتے ہیں اور کیا وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے لیے موجود ہوں گے یا قاری شریف کی تبلیغ پر چلے جائیں گے، تو وقت ہی بتائے گا لیکن لوگوں کو فوری انصاف فراہم کرنے کا حکومتی طریقہ کار پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو گیا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد