http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 22 March, 2005, 13:37 GMT 18:37 PST

مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال

پاکستان کی حکومت نے نئے کمپیوٹرائزڈ اور مشین سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے اس فیصلے کی حتمی منظوری 24 مارچ کو وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔

اس بات کا اعلان وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے منگل کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

اس مسئلے پر دینی جماعتیں گزشتہ ایک برس سے شدید احتجاج کر رہی تھیں اور ان کی حالیہ حکومت مخالف مہم میں پاسپورٹ کے خانے کے مسئلے کو مرکزیت حاصل تھی۔ دینی جماعتیں نئے پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کے نہ ہونے کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتی آئی ہیں۔

تاہم وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ظفراللہ جمالی کے دورِ حکومت میں نئے پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اسی دوران مذہب کا خانہ ’نظرانداز‘ ہو گیا تھا۔

یہ مسئلہ وفاقی کابینہ کے سامنے اس سال پانچ جنوری کو پیش کیا گیا تھا اور اس پر تفصیل سے بحث کی گئی تھی اور اس مسئلے کے حل کے لئے وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی زیر صدارت پانچ وفاقی وزراء کی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید،وفاقی وزیر تعلیم لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف قاضی، وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات غوث بخش مہر، وفاقی وزیر برائے سیفرون یار محمد رند اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم امان اللہ خان جدون شامل تھے۔

راؤ سکندر اقبال نے کہا کہ یہ فیصلہ اس کمیٹی کے تمام ممبران کا متفقہ فیصلہ ہے۔
انھوں نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ یہ فیصلہ دینی جماعتوں کے دباؤ پر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق یہ ایک عوامی مطالبہ تھا جو پورا کر دیا گیا۔