BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 29 April, 2005, 17:51 GMT 22:51 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عدلیہ کو آزاد بنانے کا مطالبہ
 

 
 
پاکستان میں حکمران اور حزب اختلاف کے اتحادوں، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا ہے کہ جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے آزاد عدلیہ لازمی ہے۔

یہ مطالبہ انہوں نے جمعہ کے روز انسانی حقوق کے کمشین کے زیراہتمام ’جمھوری اداروں کے استحکام میں عدلیہ کے کردار‘ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کے دوران کیا۔

سیمینار سے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے قائد ایوان وسیم سجاد اور حزب مخالف کے رہنما رضا ربانی، عاصمہ جہانگیر، جسٹس ( ر) فخرالنساء کھوکھر اور حامد خان اور دیگر مقررین نے کیا۔

انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ آمریتی دور میں حزب اختلاف کے ساتھ حکمران مسلم لیگ کے نمائندے نے بھی آزاد عدلیہ کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے تمام فریقین سے کہا کہ وہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے قیام کے لیے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جدوجھد کریں۔

عاصمہ جہانگیر کے مطابق اگر پاکستان کے سابق فوجی حکمران ایوب خان کے وقت جیسی عدلیہ بھی آج ہوجائے تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے جسٹس منیر کو پرانے دور اور جسٹس سجاد علی شاہ کو موجودہ دور کا ’ولن‘ کہا۔ ان کے مطابق اگر نصرت بھٹو کیس میں لکھے گئے فیصلے پر ججوں سے دستخط کرانے کے بعد ضیاءالحق کو آئین میں ترمیم کا اختیار دینےسے متعلق ایک سطر کا چوری سے اضافہ نہ کیا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔

انہوں نے ایک بھارتی اخبار میں شایع ہونے والے ایک کارٹوں کا ذکر کیا جس میں صدر جنرل پرویز مشرف کو پیدائشی سند پیش کی گئی اور اس میں ان کی عمر دو برس کم لکھی ہوئی ہے تو ساتھ میں جج کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں بھی عمر میں رعایت دی جائے۔ عاصمہ کے مطابق جب جج اپنے مفاد میں مقدمات کا خود فیصلہ کریں گے تو ملک کے اندر تو کیا بیرون ملک بھی رسوائی ہوگی۔

سینیٹ میں قائد ایوان وسیم سجاد نے کہا کہ جب بھی عدلیہ پر سیاسی معاملات میں فیصلے دینے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا تو عدلیہ متنازعہ بن جاتی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کی مثالیں پیش کیں کہ کئی بار وہاں عدالتوں نے سیاسی معاملات کے مقدمات واپس کردیے۔ لیکن ان کے بقول جب امریکہ میں انتخابات کا فیصلہ عدلیہ سے لیا گیا تو وہاں بھی عدالتی ساکھ کے بارے میں متضاد آراء پیدا ہوئیں۔

قانون دان اور حکمران جماعت کے وسیم سجاد نے آزاد عدلیہ کے قیام پر زور دیا اور بتایا کہ جہاں بھی مارشل لگتا ہے تو مثالیں پاکستان کی پیش کی جاتیں ہیں۔

انہوں نے ایک قصہ سنایا کہ وہ سن انتیس سو چھیاسی میں بیرون ملک ایک اجلاس میں شریک تھے کہ فجی میں مارشل لگنے کی خبر ملی تو تمام مندوبین پریشان ہوگئے۔ وسیم سجاد کے مطابق انہوں نے شرکاء سے کہا کہ ’حیران نہ ہوں میں بتاتا ہوں کہ اب فوجی حکمران آئے گا اور کہےگا کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا ہر ادارہ پہلے کی طرح کام کرے گا اور بعد میں وہ عبوری آئینی حکم جاری کرے گا۔ جس کے بعد وہ ناپسندیدہ ججوں کو فارغ کرکے اپنے من پسند ججوں کو اپنے حکم کے تحت حلف لینے کا کہے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ سب لوگ حیران ہوئے کہ آپ کو کیسے پتہ چلا تو ان کے بقول میں نے انہیں بتایا کہ ہم تجربہ کار لوگ ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ سے ’سپرسیڈ‘ ہونے کے بعد ریٹائر ہونے والی خاتون جج فخرالنساء جو، اب لاہور ہائی کورٹ بار کی صدر ہیں، اس موقع پر کہا کہ چیف جسٹس کے بینچ بنانے سمیت صوابدیدی اختیارات کم کرنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں حکومت کی فرمائش پر فیصلے آئیں اور جج اپنے فیصلوں پر خود عمل نہیں کریں وہاں عوام کو کبھی انصاف نہیں ملے گا اور معاشرہ انارکی کی طرف جاتا ہے اور دہشت گردی شروع ہوتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی عدلیہ کی حالت خراب ہے اور آزاد عدلیہ کے بنا کبھی جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی ایوان میں نجی کارروائی کے دن انہوں نے ایک ترمیمی بل پیش کیا ہے۔ جس کا مقصد ان کے بقول ججوں کی تقرریوں اور احتساب کے معاملے میں صدر مملکت کے صوابدیدی اختیارات کم کرکے پارلیمان کا کردار اس ضمن میں بڑھانا ہے۔ انہوں نے خواتین اور اقلیتوں سے امتیازی سلوک کے قوانین بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے کہا کہ رضا ربانی کی جماعت پیپلز پارٹی جب اقتدار میں ہوتی ہے تو وہ بھی مرضی کے جج لگانے کی خواہش کرتے ہیں اور باقی سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کے زمانے سے لے کر اب تک عدلیہ میں انتظامیہ کی مداخلت کی مفصل تاریخ بیان کی اور دلچسپ قصے بیان کیے۔ انہوں نے مثالیں دے کر کہا کہ جو جج بھی حکمرانوں کے لیے استعمال ہوئے اور اپنے ضمیر کاسودا کیا وہ کام نکالنے کے بعد بڑے رسوا ہوکر نکال دیے گئے اور کہیں کے نہیں رہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد