BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 May, 2005, 08:04 GMT 13:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بلوچستان سےپہلے چیف جسٹس
 

 
 
جسٹس افتخار محمد
جسٹس افتخار اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ملک کا نیا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔

وہ موجودہ چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی ریٹائرمنٹ کے بعداس سال تیس جون کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ستاون سالہ جسٹس افتخار اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جسٹس افتخار چوہدری پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے۔

وہ ساڑھے آٹھ سال بعد دو ہزار تیرہ میں ریٹائر ہوں گےاور سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلے چیف جسٹس ہوں گے جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

جسٹس افتخار نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اسلامیہ کالج سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور انیس سو چوہتر میں وکالت شروع کی۔

انہیں نومبر انیس سو نوے میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا جبکہ نو سال بعد وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔

سن دو ہزار میں ان کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔

پاکستان کی وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین کے آرٹیکل 177کے تحت جسٹس افتخار کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔

جسٹس افتخار ایک ایسے وقت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال رہے ہیں جب وکلا تنظیموں کی جانب سے عدلیہ پر فوجی حکمرانوں اور جمہوریت مخالف فیصلے دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

وکلا کی دو بڑی تنظیموں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن نے پاکستان کی اعلی ترین عدالت میں کسی بھی قانونی مسئلے پر درخواستین دائر کرنے کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے کیونکہ ان تنظیموں کے مطابق پاکستان کی اعلی ترین عدالت فوجی حکمران کے زیر اثر ہے اور وہ انہیں کے حق میں فیصلے صادر کرتی ہے۔

سپریم کورٹ نے سن دو ہزار میں صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیتے ہوئے صدر مشرف کو تین سال تک حکومت کرنے اور آئین میں ترامیم کا اختیار دیا تھا۔

جبکہ اس سال تیرہ اپریل کو سپریم کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کو بیک وقت صدر اور آرمی چیف کے عہدوں پر فائز رہنے کا اختیار دیا تھا جس پر وکلا تنظیموں نے سپریم کورٹ پر شدید تنقید کی تھی۔

جسٹس افتخار اس بنچ کا حصہ تھے جس نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد