BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 May, 2005, 15:20 GMT 20:20 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مسلم لیگ میں اختلافات برقرار
 

 
 
جمالی اور شجاعت
جمالی اور شجاعت کے اختلافات شدید ہوتے جا رہے ہیں
پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت اور ان سے قبل وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنے والے میر ظفراللہ خان جمالی کے درمیان اختلافات نے پاکستان کی سیاست میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔

کل لاہور میں چوہدری شجاعت حسین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمالی اب مسلم لیگ میں نہیں رہے اور انہوں نے وزارت عظٌمی چھوڑتے وقت کہا تھا کہ وہ پارٹی سے بھی مستعفی ہو رہے ہیں۔

تاہم ظفراللہ جمالی کا کہنا ہے کہ وہ مسلم لیگ میں بدستور شامل ہیں اور ان کو کوئی مسلم لیگ سے باہر نہیں نکال سکتا۔

منگل کو جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو چودھری شجاعت ظفراللہ جمالی کے پاس گئے اور کچھ دیر تک ان کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے رہے۔

انہوں نے ظفراللہ جمالی سے بات کی اور جیسے ہی وہ وہاں سے اٹھ کر گئے تو جمالی حزب اختلاف کے رہنما مخدوم امین فہیم کی پاس آئے جس کے بعد حزب اختلاف میں شامل دوسری جماعتوں کے ارکان بھی جمالی سے کچھ دیر گفتگو کرتے رہے۔

اس کے بعد جیسے ہی چودھری شجاعت ایوان سے باہر گئے تو جمالی حکومتی ارکان کے پاس آئے اور بہت سے ارکان نے ان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ جمالی کافی دیر تک حکومتی اراکین سے بات کرتے رہے۔ ان کے ساتھ حکومتی اراکین کی گرمجوشی نے پریس گیلری میں موجود صحافیوں کو کافی حیران کیا۔

ادھر چودھری شجاعت حسین، جمالی سے ملنے کے لیے بلوچستان ہاؤس بھی گئے۔

جمالی کافی دیر تک صحافیوں کو اسمبلی میں ملنے سے احتراز کرتے رہے مگر صحافیوں نے جب ان کو اسمبلی سے باہر نکلتے ہوئے گھیرا تو انہوں نے اس بات کا جواب دینے سے گریز کیا کہ ان کے اور چودھری شجاعت کے درمیان اختلافات ختم ہو چکے ہیں۔

جمالی نے کہا کہ انہوں نے چودھری شجاعت سے کہا کہ وہ اور چودھری پرویز الہی اور چودھری وجاہت اگلے ایک دو روز میں مل کر غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں۔

ادھر چودھری شجاعت نے اسمبلی میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے جمالی کے بارے میں بیان کو اختیارات نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کے اور جمالی کے درمیان غلط فہمی دور ہو گئی ہے۔ تاہم جمالی نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔

اس سارے معاملے میں ایک میٹنگ کا بہت تذکرہ ہو رہا ہے۔ اخباری اطلاعت کے مطابق مسلم لیگ کے رہنماؤوں سابق صدر فاروق لغاری، حامد ناصر چٹھہ، منظور وٹو اور کچھ مسلم لیگی رہنماؤوں نے لاہور میں خفیہ ملاقات کی ہے جس میں مسلم لیگ کی قیادت کی تبدیلی کے بارے میں کچھ بات چیت ہوئی ہے۔

آج جب چودھری شجاعت سے اس ملاقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ جمہوری پارٹی ہے اور جمہوریت میں ایسی ملاقاتوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ ذاتیات میں الجھنے کے بجائے سیاست میں برداشت سے چلنا چاہئے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد