BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 May, 2005, 14:45 GMT 19:45 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’تھانہ کلچر میں تبدیلی نہیں آئی‘
 

 
 
تھانہ کلچر
پاکستان میں پابندی ہے کہ پولیس سادہ لباس میں اسلحہ لے کر نہیں چل سکتی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے احکامات کے تحت دو ہزار دو میں پولیس کے لیے بنائے گئے قانون پولیس آرڈر کے بارے میں ملک کے چاروں صوبوں کے اعلی ترین افسران نے کہا ہے کہ پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بنائے گئے قانون کے باوجود ملک میں تھانہ کلچر اور پولیس کی طرف سے شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سکریٹریوں نے پولیس آرڈر کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

پنجاب کے چیف سکریٹری کامران سرول کے مطابق یہ قانون جاپانی پولیس کی طرز پر بنایا گیا ہے مگر چیف سکریٹری کا کہنا تھا کہ اس کو پاکستان میں قابل عمل بنانے کے لیے ان میں ترامیم کرنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے لیے بھی جاپانی شہریوں کو یہاں لانا پڑے گا کیونکہ ان کے مطابق یہ نظام پاکستانی کلچر سے مطابقت نہیں رکھتا۔

صوبہ سرحد کے چیف سکریٹری نے کہا کہ ان کے صوبے میں کیونکہ قبائلی نظام قانون بھی چل رہا ہے لہذا پولیس آرڈر کے تحت ان پر عملدرآمد مشکل ہے۔

بلوچستان کے سکریٹری مقامی حکومت نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں مسلح مزاحمت کے باوجود وہاں دفعہ ایک سو چوالیس اس لیے نہیں لگ سکی کہ وہاں کے ناظم بگٹی کے حمایتی ہیں اور وہ اس طرح کے کسی حکم نامے پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان افسران نے یہ بھی کہا کہ اس قانون کے تحت زیادہ اختیارات ضلعی ناظم کو تفویض کیے گئے ہیں جو سیاسی عہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی علاقے میں کوئی ہنگامہ آرائی ہوتی ہے تو وہاں کا ناظم یا تو غائب ہو جاتا ہے یا پھر وہ خود جلوس کی قیادت کر رہا ہوتا ہے لہذا اس جلوس یا وہاں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے کوئی احکامات دینے والا نہیں ہوتا۔

پنجاب کے چیف سکریٹری نے کہا کہ گذشتہ ایک سال میں ان کے صوبے میں جرائم میں دس فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ان افسران نے اس قانون کو بنانے والے ادارے قومی تعمیر نو بیورو پر بھی تنقید کی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ سردار طالب نکئی نے کہا کہ اس قانون پر نظر ثانی کے لیے صوبائی حکومتوں اور پولیس کے اعلی افسروں کو تفصیل سے اس مسئلے پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس موقع پر قانون کے وزیر مملکت شاہد بھنڈر نے کہا کہ پولیس اگر غلط پرچے درج کرنے پر بے گناہوں کو گرفتار نہ کرے یا پھر ان کی بے گناہی ثابت کرنے پر انہیں تھانے سے ہی چھوڑ دے تو اس نئے پولیس قانون کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس پولیس بے گناہوں کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرتی ہے اور ان کو سالوں جیل میں رکھا جاتا ہے جس سے پولیس کے خلاف عوام کی نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ادھر سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں صحافیوں کو اس اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔ قومی اسمبلی کی تمام قائمہ کمیٹیوں میں صحافیوں کو اجلاس کی کوریج کی اجازت ہے مگر صرف دفاعی کمیٹی میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

آج اس مسئلے پر حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے دو ارکان سینیٹ فرحت اللہ بابر اور رخسانہ زبیری نے اس مسئلے پر احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد