BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 June, 2005, 14:09 GMT 19:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاکستان کے چالیس لاکھ مزدور بچے
 

 
 
بچوں کی مزدوری کوحکومت نے ایک خطرناک کام قرار دے رکھا ہے
سیالکوٹ میں مزدور بچوں کے لیے کام کرنے والے بنیامن نے آلات جراحی کے کارخانہ پر کام کرنے والے ایک بچہ سے پوچھا کہ تمہیں یہاں کبھی کوئی حادثہ پیش آیا تو اس نے کہا ’نہیں’۔ بنیامن نے کہا کہ تو تمہارے ہاتھ پر یہ جلنے کے زخم کا بڑا سا نشان کیسا ہے تو اس نے کہا کہ یہ تو کام کا حصہ ہے۔

جو ہزاروں بچے سیالکوٹ میں جراحی کے آلات بنانے کے کارخانوں پر مزدوری کرتے ہیں اور ملک اُن کی محنت سے اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتا ہے وہ بچے اپنی سانس کے ساتھ ساتھ ریتی پر دھات کو گھسنے سے نکلنے والی دھاتی دھول کو بھی سانس کے ساتھ اندر لے کر جاتے ہیں جو ان کے کام کا بہت خطرناک پہلو ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں کو نقصان ہوتا ہے۔

منگل کو لاہور میں بچوں کی مزدوری پر ایک مذاکرہ میں بات کرتے ہوئے آئی ایل او کے عہدیدار بنیامن نے کہا کہ انہوں نے جب ایک ورکشاپ کے مالک سے یہ بات کہی تو اس نے کہا کہ وہ خود بیس سال سے یہ کام کررہا ہے اور اسے تو کچھ نہیں ہوا۔ بنیامن کے مطابق ان کم عمر بچوں کا اپنے والدین سے دور مستریوں کی نگرانی میں کام کرنا بھی بذات خود کئی مشکلات کا باعث بنتا ہے کیونکہ ان ورکشاپوں کے مالکان کا ان بچوں سے کوئی براہ راست رشتہ نہیں جبکہ فٹ بال سینے کے کام میں بچے اپنے والدین کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں۔

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے اہلکار بنیامن سیالکوٹ میں آلات جراحی کی صنعت میں کام کرنے والے بچوں کی بہبود کے لیے ایک منصوبہ پر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آلات جراحی کی صنعت میں کام کرنے والے بچوں کے لیے دوسری صنعتوں جیسے فٹ بال اور قالین وغیرہ کے مقابلہ میں زیادہ مشکل ہے کیونکہ گھروں سے دور ورکشاپوں میں آئے ہوئے ان بچوں کو کام کے ساتھ ساتھ ابتدائی تعلیم سیکھنے پر آمادہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

پنجاب کے محکمہ محنت کے اعلی افسر سعید احمد اعوان کے مطابق آلات جراحی بنانے کے کام میں بچوں کی مزدوری ان سات شعبوں میں شامل ہیں جنہیں حکومت نے بچوں کے کام کے لیے خطرناک قرار دیا ہوا ہے۔

دوسرے کاموں میں میں کان کنی، کوڑا اٹھانے کا کام، حیدرآباد میں چوڑیاں بنانےکا کام، گوادر میں مچھلیاں پکڑنے کا کام، قالین بافی اور قصور کی چمڑا بنانے کی صنعت شامل ہے۔اس سال بچوں کے حوالے سے موضوع بھی یہ ہے کہ کان کنی میں کام کرنے والے بچوں کی بہبود اور بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے۔ آئی ایل او ضلع چکوال اور شانگلہ میں کام کررہا ہے جہاں سے بچے کان کنی کے لیے دوسری جگہوں پر بھی جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک کام تو چمڑے کی صنعت کا ہے جہاں بڑی تعداد میں کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔ قالین بافی میں بچے دس سے بارہ گھنٹے پنجوں کے بل بیٹھ کر کام کرتے ہیں جس سے ان کی ہڈیاں مڑ جاتی ہیں ۔

سعید اعوان کے بقول پنجاب میں بچے کوڑا اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں جس میں وہ ہسپتالوں کا کوڑا بھی اٹھاتے ہیں جس میں خطرناک بیماریوں میں استعمال ہونے والی پٹیاں، ٹیکے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ ان بچوں میں ایک بڑی تعداد افغانیوں کی ہے جن کے بارے میں سماجی بہبود کا محکمہ اصولی طور پر بھی اس بنیاد پر کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں کہ وہ غیر ملکی ہیں۔

اگر بچے یونہی مزدوری کرتے رہے تو
جب تک حکومت اور معاشرہ انہیں تعلیم اور علاج معالجے کے مواقع فراہم نہیں کرتا بہت سے بچے ہسپتالوں کا کوڑا اٹھاتے رہیں گے، ریتی سے اڑنے والی دھات کی دھول سانس میں کھنچتے رہیں گے اور اپنے ہاتھ کے جلنے کو کام کا حصہ سمجھتے رہیں گے

سعید اعوان کا کہنا ہے کہ ان بچوں میں تشدد بھی عام ہے اور ان بچوں کو دیکھا گیا تو پتا چلا کہ آپس کی اکثر لڑائیوں کی وجہ سے بہت سے بچوں کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔ خطرناک کام کرنے والے بچوں کےبارے میں پنجاب کےمحکمہ محنت کے سعید اعوان کا کہنا ہے کہ وہ تیس پینتیس سال میں عمر رسیدہ لگتے ہیں کیونکہ وہ بچپن سے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔

آئی ایل او کے ایک اور عہدیدار سیف اللہ چودھری کا کہنا ہے کہ بچوں کی مزدوری کے پیچھے ایک بڑی اہم وجہ غربت ہے اور بہت سے والدین اگر پیسوں کے لیے نہیں تو صرف اسلیے بچوں کو کام پر بھیجنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ کوئی ہنر توسیکھے گا کیونکہ حکومتی نظام تعلیم میں مستری، بڑھئی یا ٹیکنیشن بنانے کے ہنر نہیں سکھائے جاتے اور ہنر سکھانے والے ادارے بھی موجود نہیں۔

تاہم بعض لوگوں کے خیال میں غربت کے ساتھ اور عوامل بھی اہم ہیں۔ مثلا قالین بافی کی صنعت میں بچوں کی بہبود کے لیے آئی ایل او کے منصوبہ پر کام کرنے والے تاثیر علی ضیا کا کہنا ہے کہ قالین بافی میں صرف بائیس فیصد بچے خاندان کی غربت کی وجہ سے تھے اور جن بچوں پر کام کیاگیا ان میں سے چون فیصد بچے پرائمری تعلیم کا موقع ملنے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے قالین بافی کا کام چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کا خیال ہے کہ تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتوں کا بھی بچوں کی مزدوری کو کم کرنے میں اہم کردار ہوسکتا ہے۔

آئی ایل او کے سرجیکل پراجیکٹ کے بنیامن کا بھی یہی کہنا ہے کہ بھلی بری بنیادی تعلیم سے بھی مزدور بچوں کے حالات میں بہتری آسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے قینچیاں بنانے والے ایک بچے سے بات کی جو ان کے مرکز میں پڑھنے آتا تھا۔ اس بچہ نے کہا کہ اس کا مالک اسے سو قینچیاں بنانے کی اجرت دیتا تھا لیکن اسے پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس نے کتنی قینچیاں بنائیں لیکن جب سے اس نے صرف گنتی سیکھی ہے اب اس کا مالک اسے دھوکا نہیں دے سکتا۔

پنجاب میں ایک اور غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن یو کے بھی کام کررہی ہے اور ا سکے عہدیدار ذوالفقار راؤ کا کہنا ہے کہ بچوں کو کام سے بالکل نکال کر مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خدشہ ہے کہ اگر بچوں کو کام سے نکال دیا جائے تو وہ ایک خطرناک کام سے نکل کر دوسرے کام کی طرف چل پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی کنویشنز میں بچوں کے کام اور مزدوری میں فرق ہے کیونکہ کام سے مراد یہ کہ بچہ کام کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کررہا ہے جبکہ مزدوری میں وہ کل وقتی کام کرتا ہے اور تعلیم حاصل نہیں کرتا۔

مذاکرہ میں سب ماہرین کا اس پر اتفاق تھا کہ پاکستان میں بچوں کی مزدوری کا قانون بنے چودہ سال ہوگئے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور خود اس قانون میں بھی نئے عالمی کنوینشنز کے مطابق بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

مزدور بچوں پر آخری سروے انیس سو چھیانوے میں ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں تینتیس لاکھ مزدور بچے ہیں جبکہ یہ صرف باقاعدہ کام کاج کی جگہوں پر کام کرنے والوں کی تعداد ہے۔ مزدور بچوں کا اسی فیصد تو غیررسمی شعبہ میں ہے جیسے گھروں میں اور کھیتوں میں کام کرنے والے بچے جن کا کوئی سروے دستیاب نہیں۔

پنجاب کے ڈائریکٹر سماجی بہبود ضرار حیدر کا کہنا ہے کہ باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد اب چالیس لاکھ ہوچکی ہے اور اس میں سے بیس لاکھ مزدور بچے پنجاب میں ہیں۔

پنجاب میں بچوں کی مزدوری روکنے کے لیے حکومت نے سات کروڑ کی آبادی کے صوبہ میں اب تک صرف چوراسی انسپکٹر تعینات کیے ہیں اور بچوں سے خطرناک مزدوری کرانے والوں کے خلاف گزشتہ سال صرف تین سو اکیانوے مقدمہ چلے جن میں صرف تیرہ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ خطرناک کام کے لیے کسی بچہ کو مزدور رکھے والے کے لیے جرمانہ کی زیادہ سے زیادہ شرح ڈھائی سو روپے ہے۔

پاکستان میں بچوں کی مزدوری سے متعلق جو قوانین ہیں ان میں بچے کی تعریف میں ایسے نوعمر لوگ ہیں جن کی عمر ابھی پوری چودہ سال نہیں ہوئی جبکہ عالمی کنونشنز میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔

بچوں کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن بیلا جمیل کے مطابق ملک میں دو کروڑ بیس لاکھ پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے بچے سکولوں سے باہر ہیں اور یہ سب بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور بن سکتے ہیں۔

جب تک حکومت اور معاشرہ انہیں تعلیم اور علاج معالجے کے مواقع فراہم نہیں کرتا بہت سے بچے ہسپتالوں کا کوڑا اٹھاتے رہیں گے، ریتی سے اڑنے والی دھات کی دھول سانس میں کھنچتے رہیں گے اور اپنے ہاتھ کے جلنے کو کام کا حصہ سمجھتے رہیں گے۔

 
 
66یہ بچہ کس کا بچہ ہے
بچوں کا عالمی دن اور ہم۔ عارف شمیم کا کالم
 
 
66مزدوراورتلخئی اوقات
بھٹہ مزدورگرمی اوردھوپ کیوں چاہتے ہیں
 
 
66بچوں کی سمگلنگ
اونٹوں کی دوڑ کیلیے بچوں کی سمگلنگ پر مقدمات
 
 
66قیدی بچے
پاکستانی جیلوں میں 2839 بچے قید ہیں
 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد