BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 July, 2005, 10:22 GMT 15:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سندھ: اقلیتوں کی نشتیں بڑھ گئیں
 

 
 
سندھ صوبے میں بلدیاتی ادراروں میں اقلیتوں کی نشستیں بڑھا دی ہیں۔

پاکستان الیکشن کمشن کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی شق 87 کے تحت صوبے کی 134 یونین کونسلز میں اقلیتوں کی مجموعی طور پر 167 نشستیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

اس سے قبل ایک یونین کونسل میں چھ مرد جنرل، تین مسلم جنرل، ایک اقلیتی مرد، ایک اقلیتی خاتون، ایک مزدور کسان مرد، ایک مزدور کسان عورت کی نشستیں مختص کی گئی تھیں۔

اس حکم نامے کے نتیجے میں جتنی اقلیتوں کی نشستیں بڑھی ہیں، اتنی ہی مسلم جنرل مرد، اور عورتوں کی نشستیں کم ہو گئی ہیں۔

سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے مطابق جس یونین کونسل میں اقلیتوں کی آبادی دس فیصد سے زیادہ ہوگی وہاں نشستوں کی تعداد نئے سرے سے تعین کیا جائے گا۔

دس فیصد سے زیادہ آبادی پر اقلیتی مرد کی ایک نشست، بیس فیصد آبادی پر ایک اقلیتی مرد اور ایک عورت کی نشست بڑھا دی جائےگی۔تاہم یونین کونسل میں کل نشستوں جی تعداد تیرہ ہی رہےگی۔

اس فارمولے کے تحت جاری کردہ حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن کے بعد ضلع ٹنڈو محمد خان کی تین یونین کونسلوں میں ایک ایک اقلیتی نشست بڑھ گئی ہے۔

ضلع ٹنڈوالہ یار کی دو یونین کونسلز ، مٹیاری ضلع کی دو، بدین ضلع کی تیرہ یونین کونسلز میں ایک ایک، جامشورو ضلع کی ایک، میرپورخاص میں چھتیس، عمرکوٹ میں سینتالیس، تھرپارکر میں تینتالیس، سانگھڑ میں اٹھارہ نشستیں بڑھا دی گئی ہیں۔

اسی تناسب سے جیکب آباد، کشمور، میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

نشستیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن حکومت نے پہلے مرحلے کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد جاری کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے بعد جن یونین کونسلز میں اقلیتی امیدواروں کی تعداد نشستوں کے برابر ہوگی وہاں تمام امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار دیئے جائیں گے اور جہاں امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی وہاں الیکشن ہوگا۔

اگر کسی یونین کونسل میں اقلیتی نشستوں میں حالیہ اضافے کے بعد امیدواروں کی تعداد کم ہوگی تو ان خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔

تاہم دوسرے مرحلے میں انتخابات نئے فارمولے کے تحت بڑھی ہوئی نشستوں کے مطابق ہونگے۔

بعض اقلیتی رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کی توجہ دلائی تھی کہ اقلیتوں کی نشستوں کے لیے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر عمل کرایا جائے اور جہاں ان کی آبادی دس فیصد سے زیادہ ہے وہاں اسی تناسب سے انہیں نمائندگی دی جائے۔

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے دو روز قبل سندھ حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اقلیتی نشستوں کا تعین آبادی کے مطابق کرے اور جلد اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کرے۔

جنرل مشرف دور کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں بھی پہلا مرحلہ جداگانہ بنیادوں پر ہوا تھا اور اقلیتوں کے مطالبے پر دوسرے مرحلے کے انتخابات مشترکہ بنیادوں پر ہوئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد