BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
انتخاب: مدرسوں کی سندیں مسترد
 

 
 
دینی مدرسوں کی سندیں میٹرک اور بی اے یا ایم اے کے برابر نہیں: ہائی کورٹ
لاہور ہائی کورٹ کے دو ججوں نے اپنے اپنے فیصلوں میں قرار دیا ہے کہ دینی مدرسوں کی سندیں میٹرک اور بی اے یا ایم اے کے برابر نہیں اور یہ سندیں رکھنے والے انتخابات لڑنے کے اہل نہیں۔

اس بارے میں ایک فیصلہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری نے دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مقامی انتخابات کے امیدواروں کی دینی مدرسوں سے حاصل کی گئیں سندیں اس وقت تک میٹرک کے مساوی نہیں ہیں جب تک یہ طالبعلم کسی سیکنڈری بورڈ سے تین لازمی مضمونوں کے امتحان پاس نہیں کرلیتے۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے یہ فیصلہ ان نو درخواستوں پر دیا جن میں ریٹرننگ افسروں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ان افراد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی سیکنڈری بورڈ سے انگلش، اردو اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پاس کرنے کی سند لے کر ہی دینی مدرسہ سے شہادت الثنویہ کی سند میٹرک کے برابر قرار دی جاسکتی ہے۔

ایک دوسرے فیصلہ میں جسٹس سید حامد علی شاہ نے چیف جسٹس کے فیصلہ کی پیروی کرتے ہوئے خوشاب کے ایک شخص قاری سعید کی ریٹرننگ افسر کے فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی درخواست بھی مسترد کردی۔ جج نے کہا کہ جب شہادت االثنویہ کی سند میٹرک کے برابر نہیں تو شہادت العالمیہ کی سند کالج یا یونیورسٹی کی ڈگری کے برابر بھی نہیں ہوسکتی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے افراد کی شہادت العالمیہ کی سند کو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایم اے کے برابر مانا تھا اور انہیں انتخاب لڑنے کا اہل قرار دیا گیا تھا اور متحدہ مجلس عمل کے تریسٹھ ارکان اسمبلی کے پاس یہی سندہے۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد متحدہ مجلس عمل کے ارکان اسمبلی کی اہلیت کا تنازعہ ایک بار چھڑنے کا امکان ہے جس پر دو سال پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ مقدمہ پس منظر میں چلا گیا۔

اس دوران میں متحدہ مجلس عمل نے صدر جنرل پرویز مشرف کے ایل ایف او کو آئین کا حصہ بنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد