BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 12 August, 2005, 08:18 GMT 13:18 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ملزم کی درخواست پر پولیس طلب
 

 
 
امریکی صحافی ڈینیئل پرل
2002 میں ڈینیئل پرل کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا
سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کیس میں گرفتار ملزم ہاشم عرف عارف کی زندگی کے تحفظ کے لیے دائر آئینی درخواست پر متعلقہ پولیس افسران کو سوموار کے روز عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس غلام ربانی اور جسٹس عزیز میمن پر مشتمل ڈبل بنچ میں جمع کی صبح اس درخواست کی سماعت ہوئی۔ جس میں ہاشم عرف عارف کے وکیل نے دلائل دیے۔ عدالت نے مختصر سماعت کے بعد متعلقہ پولیس افسران کو موقف پیش کرنے کے لیے سوموار کو طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی۔

یہ آئینی درخواست پرل کیس کے سزا یافتہ ملزم شیخ عمر کے وکیل رائے بشیر نے دائر کی تھی ۔ جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہاشم پرل کیس میں اشتہاری ملزم ہے۔ اس کو گوجرانوالہ سے اسی کیس کی تحقیقات کے لیے کراچی لایا گیا ہے مگر اب تک پولیس نے اس کی گرفتاری پرل کیس میں ظاہر نہیں کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہاشم کو آرٹلری پولیس نے محمد اسلم کے قتل کیس میں شامل تفتیش کیا ہے۔ جس کی بوری میں بند لاش ملی تھی۔اسی مقدمے میں اس کا رمانڈ بھی لیا گیا ہے۔

پٹیشن میں انسپیکٹر جنرل آف پولیس، سپرنٹینڈنٹ آف پولیس کراچی ساوتھ، انچارج انویسٹیگیشن آرٹلری میدان پولیس اور اجمل اعوان انویسٹیگیشن آفیسر کو فریق بنایا گیا ہے۔

رائے بشیر نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کے انہوں نے پٹیشن میں کہا ہے کہ ہاشم پر پولیس تشدد کر رہی ہے جس سے اس کی زندگی کو خطرہ ہے۔ جبکہ اس سے قبل پولیس پرل کیس کے دو اشتہاری ملزمان امجد فاروقی اورقاسم کو مقابلوں میں ہلاک کر چکی ہے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ ہاشم کو بھی کہیں کسی ایسے مقابلے میں ہلاک کر دیا جائے گا۔

ایڈووکیٹ بشیر نے بتایا کہ درخواست میں ہاشم کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کو تحفظ دینے، اس کی گرفتاری پرل کیس میں ظاہر کرنے، متعلقہ عدالت میں پیش کرنے اور پولیس مقابلے میں ہلاک نہ کرنے کی گذارش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں جنوری سن دو ہزار دو میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل پاکستان میں مذہبی شدت پسندی پر ایک تحقیقی رپورٹ پر کام کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھےـ ان کے اغوا کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب نامعلوم افراد نے ای میل کے زریعے بھیجے جانے والی تصاویر میں انہیں اپنے قبضے میں دکھایا تھاـ بعد میں ایک وڈیو ٹیپ جاری ہوئی جس میں ڈینیئل پرل کو قتل کیے جاتے دکھایا گیا۔

پولیس نے اس مقدمے میں ایک ملزم شیخ عمر کو گرفتار کیا تھا جس کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سزا موت سنائی تھی اور جرمانہ عائد کیا تھا۔ شیخ عمر نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جو ابھی زیر سماعت ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد