BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 August, 2005, 09:38 GMT 14:38 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاکستان: مدارس کا اندراج شروع
 

 
 
مدرسہ
اسلام آباد میں مدارس کے اندراج کا عمل گزشتہ ماہ شروع کیا گیا تھا
حکومت نے جمعرات سے ملک کے چاروں صوبوں میں بارہ ہزار سے زائد دینی مدارس کے اندارج کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ دینی مدارس کی تنظیم، ’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘ نے مدارس کا اندراج نہ کرانے کا اعلان کیا ہے۔

پانچ مختلف مکاتب فکر کے مدارس کے اتحاد ’ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘ ، کے رابطہ سیکریٹری مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے بدھ کے روز بی بی سی بات کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے خدشات دور نہیں کیے جاتے اس وقت تک وہ مدارس کا اندراج نہیں کرائیں گے۔

ملتان سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ اعلان اس وقت کیا ہے جب پاکستان حکومت نے دینی مدارس کے اندراج کا سلسلہ چوبیس اگست سے شروع کردیا ہے۔

مذہبی امور کی وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں میں اندراج کے لیے ’فوکل سیکریٹری‘ تعینات کیے گئے ہیں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ وزارت کو بھیجیں۔

گزشتہ دنوں حکومت، دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بعض امور پر اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی حکومت نے اندراج کا عمل شروع کردیا ہے۔

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے رابطہ سیکریٹری مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جو ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے اس کی کئی شقوں پر انہیں تحفظات ہیں۔

حکومت اور مدارس کے نمائندوں کے درمیان اختلافات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیمی آرڈیننس کی ایک شق میں ’سالانہ رپورٹ‘ کا مبہم لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کس بارے میں سالانہ رپورٹ ہونی چاہیے۔

مولانا جالندھری کے مطابق دوسری شق میں آمدن، اخراجات اور ذرائع آمدن کا ذکر ہے اور اس بارے میں بھی سالانہ رپورٹ دینے کے لیے مدارس کو پابند کیا گیا ہے۔ جس پر وہ کہتے ہیں کہ انہیں اعتراض یہ ہے کہ جب کسی نجی سکول سے اس طرح کی معلومات نہیں لی جاتی تو مدارس کو کیوں پابند کیا جا رہا ہے؟

تیسری شق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور شدت پسندی کی تعلیم دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق بعض فرقوں کی وضاحت کے بارے میں تعلیم دینے کو اس زمرے سے نکالا جائے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا اجلاس بلائیں گے اور آئندہ کی حکمت عملی مرتب کریں گے۔ جس کے بعد وہ مدارس کے اتحاد کی سپریم کونسل میں اندراج کا معاملہ رکھیں گے۔

مولانا حنیف جالندھری نے بتایا کہ پاکستان بھر میں پانچ مکاتب فکر کے بارہ ہزار دینی مدارس ہیں جس میں سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سات ہزار سے زیادہ مدرسے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ’سوسائی ٹیز ایکٹ 1908‘ ، کے تحت مدارس کا اندراج ہوتا ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد پاکستان حکومت نے اس قانون میں متعدد ترامیم کیں اور قانون میں سختیاں پیدا کیں۔

گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک سخت بیان دیا اور ایک اور ترمیم اس قانون میں کی گئی جس پر اب فریقین میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد