BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 September, 2005, 17:25 GMT 22:25 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
قاتل کی گرفتاری کا دعویٰ
 

 
 
دس سالہ طالبعلم محمد افضل کا ممکنہ قاتل
پولیس نے اعلان کیا کہ مدرسہ عمار بن یاسر کے قتل کا معمہ حل کر لیا گیا ہے۔
پولیس نےایک ہفتہ قبل ملتان کے ایک دینی مدرسے میں قتل کی ایک واردات میں ہلاک ہونے والے دس سالہ طالبعلم محمد افضل کے قاتل کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

مبینہ قاتل چودہ سالہ حافظ حنان بھی اسی مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کررہا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے قتل مدرسے کی انتظامیہ کے مبینہ ظالمانہ رویے کے خلاف ردعمل کے طور پر کیا تاکہ اس سے مدرسے کی بدنامی ہو اور وہ بند ہوجائے۔

محمد افضل سترہ ستمبر کے روز بستی وسایا رام میں قائم دینی مدرسے عمار بن یاسر کے بیت الخلاء میں مردہ پایا گیا تھا۔ کسی نے اس کا گلا تیز دھار آلے کی مدد سے کاٹ ڈالا تھا۔

پولیس نے تفتیش شروع کی تو قتل کا سراغ لگانے کے لیے اس کے ہاتھ کوئی سرا نہیں تھا سوائے ایک خون آلود قمیض کے جو کہ مدرسے کے ساتھ والے خالی میدان سے ملی تھی۔ مدرسے کے مہتمم مولانا عبدالغفور اور مدرس قاری عبداللہ بھی اس ضمن میں پولیس کی کوئی رہنمائی نہیں کر پا رہے تھے۔

تاہم سنیچر کو ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے ملتان کے ضلعی پولیس افسر منیر چشتی نے اعلان کیا کہ مدرسہ عمار بن یاسر کے قتل کا معمہ حل کر لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق حنان نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ مبینہ قاتل کو اخباری کانفرنس میں صحافیوں کے سامنے بھی لایا گیا جہاں اس نے پولیس کی موجودگی میں ایک بار پھر جرم کا اعتراف کیا۔

حنان کے پولیس کو دیئے گئے بیان کے مطابق وہ چار بہن بھائی ہیں۔ بڑا بھائی عفان قریبی قصبے بھینی میں واقع ایک سرکاری ہائی سکول میں چھٹی جماعت کا طالبعلم ہے جبکہ دونوں چھوٹی بہنیں بھی ایک پرائمری سکول میں زیر تعلیم ہیں۔ تاہم انہوں نے چوتھی جماعت سے تعلیم کا سلسلہ ترک کیا تو والد حاجی مختار نے دینی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے چچا زاد مولانا عبدالغفار کے مدرسے عمار بن یاسر میں داخل کرا دیا۔

انہوں نے کہا کہ سترہ ستمبر کے روز وہ چھری لے کر مدرسے کے نگران کو قتل کرنے کی غرض سےگئے اور چھپ کر ان کا انتظار کرنے لگے۔

بیت الخلاء میں انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ کسی طالبعلم کو مار دیا جائے کیونکہ پولیس مدرسے کے نگران سے تفتیش کرے گی، مدرسے کی شہرت خراب ہوگی اور اس طرح وہ بند ہوجائے گا۔ چنانچہ انہوں نے بیت الخلاء کے پاس سے گذرنے والے طالبعلم افضل کو ہاتھ بڑھا کر اندر کھینچا اور اس کی گردن پر چھری پھیر دی۔

واردات کرنے کے بعد انہوں نے اپنے خون آلود کپڑے دھونے کی کوشش کی لیکن قمیض سے داغ نہیں جارہے تھے جس پر انہوں نے فرار ہوتے ہوئے اسے قریبی میدان میں پھینک دیا۔ پولیس نے قمیض پر لگے ٹیگ کی مدد سے پہلے درزی کا پتہ چلایا اور پھر حنان تک پہنچ گئی۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد