BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 October, 2005, 09:06 GMT 14:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی میں بچے کھچے یہودی
 

 
 
 یہودی قبرستان
کراچی میں یہودیوں کا قبرستان میوہ شاہ میں واقع تھا
’میرا نام اسحاق موسیٰٰ آخیر ہے اور میں کراچی میں رہتا ہوں۔ یہاں مقامی ہسپتال میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہا ہوں‘۔

کسی بھی شخص کا اپنے تعارف میں یہ کہنا کوئی خاص معنیٰ نہیں رکھتا، لیکن جب موسیٰ یہ کہیں کہ ’میں ایک یہودی ہوں اور اس وقت کراچی میں تقریباً دس یہودی خاندان گزشتہ دو صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں‘ تو یہ سن کر کوئی بھی حیران ہوئے بغیر نہں رہ سکتا۔

اسحاق موسیٰ کے اس انکشاف سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ پاکستان بالخصوص کراچی میں بنی اسرائیل کا کوئی بھی باشندہ نہیں رہتا ہے تاہم ماہِ ستمبر میں ترکی کے دارالحکومت استنبول میں پاکستان اور اسرائیل کے وزیر خارجہ کی ملاقات اور نیویارک میں صدر جنرل پرویز مشرف کے امریکن جیوئش کانگریس سے خطاب کے بعد اب پاکستان میں اسحاق موسیٰ آخیر اور انہی کی طرح اپنی مذہبی شناخت پوشیدہ رکھ کر زندگی بسر کرنے والے دیگر اہلِ بنی اسرائیل کو امید ہو چلی ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کے ساتھ آزادانہ زندگی بسر کرنے کے دن زیادہ دور نہیں ہیں۔

یہودی قبرستان میں کراچی کی آخری یہودی عبادت گاہ شیلوم سنیگاگ بنوانے والے سولومن ڈیوڈ اور اس کی بیوی شیولا بائی بھی دفن ہیں

اسحاق موسیٰ کا کہنا ہے کہ’ہماری اپنی ایک چھوٹی سی دنیا ہے۔ میرے گھر پر اجتماعی مذہبی عبادت کا اہتمام ہوتا ہے۔ حال ہی میں میرے بیٹے کی بار مٹزوا کی رسم ادا کی گئی۔ اس یہودی رسم کا مقصد تیرہ برس کی عمر کو پہنچنے والے بیٹے کو عاقل و بالغ مرد کا رتبہ دینا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو آزادانہ طور پر اپنی عبادات کا اہتمام کرسکتے ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ خود کو ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک قسم کا تحفظ بھی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہمارا استعمال کرے۔ یہودی ہونے کے باوجود ہم خود کو پارسی ظاہر کرتے ہیں اور اصل شناخت اور سادگی کی اس زندگی میں ہم بہت خوش ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’مجھے پاکستان چھوڑ کر چلے جانے کی کوئی خواہش نہیں، البتہ میں اپنی مادرِ وطن کو دیکھنا ضرور چاہتا ہوں، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرلیتا۔ مجھے توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہت جلد بہتر ہوجائیں گے اور میں اپنی مادرِ وطن کو دیکھنے کے لیے جا سکوں گا‘۔

  پاکستان میں اسحاق موسیٰ آخیر اور انہی کی طرح اپنی مذہبی شناخت پوشیدہ رکھ کر زندگی بسر کرنے والے دیگر اہلِ بنی اسرائیل کو امید ہو چلی ہے کہ ان کے مذہبی شناخت کے ساتھ آزادانہ زندگی بسر کرنے کے دن زیادہ دور نہیں ہیں
 

یروشلم پوسٹ کو کیے گئے ای میل میں اسحاق موسیٰ آخیر کے یہ اعترافات کراچی کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز پر کراچی میں ڈھائی ہزار سے زائد یہودی رہتے تھے، جن کی اکثریت تجارت، سرکاری ملازمتوں اور مختلف فنون سے وابستہ تھی۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ مراچی زبان بولتے تھے، جو انہیں اہلِ بنی اسرائیل ثابت کرتی تھی۔

1893ء میں کراچی کے یہودیوں نے اپنی پہلی عبادت گاہ جسے سنیگاگ کہا جاتا ہے، تعمیر کیا۔ اس عبادت گاہ کا نام ’میگن شیلوم سنیگاگ‘ رکھا گیا۔ 1903ء میں ان کی پہلی باقاعدہ رفاحی تنظیم بنی، جسے’ینگ مین جیوئش ایسوسی ایشن‘ کا نام دیا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد کراچی کے یہودیوں کے لیے فلاح و
بہبود کے کام کرنا تھا۔

اس قبرستان کے آخری مدفون شیلوم سنیگاگ کے دو چوکیدار تھے

بعدازاں ’ کراچی بنی اسرائیل ریلیف فنڈ‘ قائم ہوا جس کا مقصد غریب یہودی باشندوں کی مالی معاونت کرنا تھا۔ 1918 ء میں یہ سرگرمیاں ایک قدم اور آگے بڑھیں اور بے گھر غریب یہودیوں کو معمولی رقم کے عوض گھر کی چھت مہیا کرنے کی غرض سے ’کراچی جیوئش سنڈیکیٹ‘ کا قیام عمل میں آیا۔ سنہ 1939 میں ان یہودیوں کے مقامی رہنما ابراہام ریوبین کراچی کی میونسپلٹی کے پہلے یہودی کونسلر منتخب ہوئے۔

 مجھے پاکستان چھوڑ کر چلے جانے کی کوئی خواہش نہیں، البتہ میں اپنی مادرِ وطن کو دیکھنا ضرور چاہتا ہوں، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرلیتا۔ مجھے توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہت جلد بہتر ہوجائیں گے اور میں اپنی مادرِ وطن کو دیکھنے کے لیے جا سکوں گا۔
 
اسحاق موسٰی آخیر

قیام پاکستان کے فوراً بعد 1948ء میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا اور اس کے بعد سے کراچی میں مقیم چھوٹی سی یہودی اقلیت کا برا دور شروع ہوا۔ بنی اسرائیل پر زمین تنگ ہونے کی سیکڑوں برس پرانی داستان ایک بار پھر کراچی میں دہرائی جانے لگی۔ 1948ء، 1956ء اور 1967ء کی عرب اسرائیل جنگوں اور پاکستانی شدت پسند مسلمانوں کے خوف نے انہیں جان بچانے کے لیے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ حتیٰ کہ 1968ء تک کراچی میں یہودی کمیونٹی کی تعداد گھٹ کر صرف 250 افراد تک رہ گئی۔

اسی دوران کراچی میں یہودیوں کی واحد عبادت گاہ بھی نذرِ آتش کی جاچکی تھی۔ یوں حالات کے پیشِ نظر باقی ماندہ بنی اسرائیلیوں نے اپنی شناخت کو پوشیدہ رکھنا شروع کردیا۔ یاد رہے کہ کراچی کی علاوہ پاکستان میں یہودیوں کی ایک قلیل تعداد پشاور میں بھی موجود تھی اور وہاں ان کی دو عبادت گاہیں تھیں، لیکن اسی مدت میں وہ بھی کوچ کرگئے اور معبد ویران ہوگئے۔

پاکستان سے بڑی تعداد میں یہودیوں نے ایران کے راستے ہندوستان، اسرائیل اور برطانیہ ہجرت کی۔ ان کے پیچھے رہ جانے والا کراچی کا آخری میگن شیلوم سنیگاگ 80 کی دہائی کے اوائل میں منہدم کرکے اس کی جگہ پر شاپنگ سینٹر قائم ہوگیا۔ یہ عبادت گاہ رنچھوڑ لائن میں تھی، جو کبھی پارسی اور یہودی کمیونٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔

اس انہدام کے بعد کراچی سے رملہ ہجرت کرجانے والے یہودیوں نے وہاں ایک سنیگاگ بنایا، جس کا نام منہدم عبادت گاہ کی یاد میں ’میگن شیلوم سنیگاگ، رکھا۔

کراچی میں یہودیوں کا قبرستان میوہ شاہ میں واقع تھا، جہاں آج بھی کراچی کے یہودی باشندوں کی قبریں موجود ہیں۔ اس قبرستان کے آخری مدفون شیلوم سنیگاگ کے وہ دو چوکیدار تھے، جو نوے کی دہائی کے اوائل میں دنیا سے رخصت ہوئے۔

یہیں جھاڑیوں سے گھرے چھوٹے سے قطعہ ارضی پر ایک چھوٹا سا مقبرہ ہے، جس میں کراچی کی پہلی اور آخری یہودی عبادت گاہ شیلوم سنیگاگ بنوانے والے سولومن ڈیوڈ اور اس کی بیوی شیولا بائی کی قبریں ہیں۔

سولومن ڈیوڈ کراچی بلدیہ میں بطور سروئیر ملازم تھے۔ اس کا انتقال 1902 میں ہوا اور اس کے ایک سال بعد ان کی بیوی بھی چل بسی۔ اب یہ قبرستان مسلمانوں کے زیرِ استعمال ہے اور بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس سرزمین پر ابدی نیند سونے کا حق کبھی یہودیوں کو بھی حاصل تھا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد