BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 12:41 GMT 17:41 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’خیمے ذخیرہ ہو رہے ہیں‘
 

 
 
خیمے
خیمے اعلیٰ سول اور فوجی افسران کے لیے رکھے جار ہے ہیں
انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی حکام زلزلہ سے متاثر ضرورت مند اور بے گھر افراد کو خیمے اور دوسری امدادی اشیا تقسیم کرنے کے بجائے انہیں بڑے افسروں کے لیے گوداموں میں ذخیرہ کررہے ہیں حالانکہ متاثرین کو ان خیموں کی فوری طور پر اشد ضرورت ہے۔

ہفتہ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مظفرآباد میں سول حکام فوجی نگرانی میں کام کررہے ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق انیس اکتوبر کو ہیومن رائٹس واچ مظفرآباد کے سول سیکرٹیریٹ میں سپلائی ڈپو پر موجود تھی۔

حکومت کے سول حکومت کے اہلکار امدادی سامان کو گوداموں میں ذخیرہ کرنے میں مدد فراہم کررہے تھے اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دن بھر کی مزدوری کے بعد انہیں شام کو واپس جاتے ہوئے خیمے دیے جائیں گے۔ یہ ڈپو کشمیر کے چیف سیکرٹری کے ماتحت انتظامیہ کے کنٹرول میں تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کئی سرکاری سول اہلکاروں نے اسے آگاہ کیا کہ انہیں تین روز کےاس کام کے لیے منتخب کیا گیا تھا لیکن وہ ہر رات اپنے بے گھر خاندان والوں کے پاس خالی ہاتھ جاتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایک خیمہ چھ لوگوں کو چھت مہیا کرسکتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ مظفرآباد میں خیموں کی سرکاری ملازمین میں تقیسم کے انچارج اہلکاروں نے اسے بتایا کہ کہ خیمے اور ایمرجنسی کے امدادی سامان کو ذخیرہ کیا جارہا ہے اور یہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ اگر سینئر فوجی اور سول افسران کو اس سامان کی ضرورت پڑے تو انہیں یہ چیزیں دینے میں مشکل پیش نہ آئے جو کہ بصورت دیگر دستیاب نہیں ہوں گی۔ ایک سرکاری اہلکار نے ہیومن رائٹس واچ سے کہا کہ اگر اس نے یہ خیمے تقسیم کردیے تو اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔

تنظیم کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ کشمیر میں زندگی اور موت کے بیچ درمیان جو فرق ہے وہ ایک خیمہ ہے اور ضروری ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ امداد بلا امتیاز اور کسی صوابدید کے بغیر بانٹی جارہی ہے۔

زلزلہ کے بعد ہیومن رائٹس واچ نے تنبیہ کی تھی کہ انسانی حقوق کو سب سے بڑا خطرہ عموماً بحران کے دنوں میں پیش آتا ہے اور اس نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امدادی کام کی تنظیم اور تقسیم میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کی پابندی کرے۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خیمے کشمیر میں سب سے اہم ترین چیز ہیں اور انہیں فوجی اور سول حکام اس علاقہ میں اپنی طاقت بنانے اور سرپرستی کرنے کے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلہ کو جلد حل کرنا چاہیے۔

 
 
اسی بارے میں
کیا خیمے پناہ دے سکتے ہیں؟
19 October, 2005 | پاکستان
خیموں کی قیمتیں بڑھ گئیں
19 October, 2005 | پاکستان
خیموں کی برآمد پر پابندی
18 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد