BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 October, 2005, 03:57 GMT 08:57 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’خیمے فوج کی سفارش پر دستیاب‘
 
نثار شاہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو وہاں تعینات فوجی افسران کے رویے کے بارے میں بھی سخت شکایات ہیں۔
نثار شاہ مظفر آباد کے قریب واقع متاثرہ علاقے راولا کوٹ کے ایک سماجی رہنما ہیں اور گزشتہ روز ایک اور متاثرہ علاقے باغ اور اس کے مضافات کا دورہ کرکے واپس آئے ہیں۔

نثار شاہ کا کہنا ہے کہ باغ سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سدھن گلی کے علاقے میں صورت حال بہت خراب ہے۔

’وہاں کے لوگوں سے ہماری جو گفتگو ہوئی، خاص طور پر بھیر پائی کے جو لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ انہیں ابھی تک جو خیمے ملے ہیں وہ بہت کم تعداد میں ہیں اور لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔‘

’وہاں لوگوں کے بچے بیمار ہیں اور ان تک امداد بھی صحیح طور پر نہیں پہنچ رہی۔ جبکہ وہاں بڑی تعداد میں ملٹری کے کیمپ بھی لگے ہوئے ہیں۔‘

’لیکن لوگوں نے شکایت کی ہے کہ آرمی کا سامان مخصوص لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کی سفارش پر مہیا کیا جاتا ہے۔‘

نثار شاہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو وہاں تعینات فوجی افسران کے رویے کے بارے میں بھی سخت شکایات ہیں۔

’لوگوں نے یہاں تک کہا کہ انہوں نے کچھ فوجی افسران سے یہ شکایت کی تھی کہ وہ مخصوص لوگوں کو خیمے دے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شکایت کرنے والے دو نوجوانوں کو فوجی کیمپ لے جایا گیا اور سزا کے طور پر پورا دن انہیں وہیں رکھا گیا۔ بعد میں گاؤں والوں کی طرف سے مزاحمت پر ان نوجوانوں کو گھر واپش جانے دیا گیا۔

 
 
اسی بارے میں
زلزلے سے رضائیاں بھی مہنگی
24 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد