BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 December, 2005, 17:33 GMT 22:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ڈیڈ لائن پر عمل ناممکن
 

 
 
لال مسجد مدرسہ اسلام آباد
مدرسوں کا تعلیمی نظام ایک عرصہ سے اختلافات کا شکار ہے
پاکستان میں مدارس کی تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینینہ نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف نے پہلی دسمبر کو ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت مدارس کو اکتیس دسمبر تک رجسٹریشن کرانے کے لئے پابند کیا گیا ہے۔

تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینینہ کے سربراہ مفتی منبیب الرحمان نے کراچی میں ہفتے کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رجسٹریشن کی تاریخ میں تیس جون تک کی توسیع کی جائے کیونکہ ہر تنظیم ضلع کی سطح پر اپنا کوآرڈینیٹر مقرر کریگی اور وہ تمام کارروائی مکمل کرا کے نئے فارم رجسٹرار کے پاس جمع کروائینگے۔

ان کے مطابق تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینینہ کی پوری قیادت ایران حکومت کی دعوت پر ایران جارہی ہے۔ جہاں سے آنے کے بعد رجسٹریشن کی کارروائی کی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک ایک بھی غیر ملکی طالب علم کو زبردستی ڈی پورٹ نہیں کیا ہے۔ انہوں نہ کہا کہ وہ اس مطالبے پر قائم ہیں کہ جو غیر ملکی طلبہ موجود ہیں انہیں تعلیم مکمل کرنے دی جائے اور جو آنا چاہتے ہیں انہیں این او سی کے بعد آنے دیا جائے۔ کیونکہ یہ پاکستان کے علاوہ مسلم امہ کے لیے بھی بہتر ہے۔

وفاق المدارس عربیہ کے ناظم قاری حنیف جالندھری نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے پانچ ہزار سے زائد غیر ملکی طلبہ جو واپس اپنے ممالک گئے تھے، حکومت کی پالیسی کی وجہ سے واپس نہیں آسکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ طلبہ مدارس سے رابطے میں ہیں اور واپس آکر اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں انتظار کرنے کو کہا گیا ہے۔

لال مسجد مدسرہ برائے خواتین
صدر کی ڈیڈ لائن پر عمل ممکن نہیں

ناظم قاری حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئیے کیونکہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکیوں نے اب بھارت کا رخ کیا ہے اور بھارتی حکومت انہیں ویزے میں رعایت بھی دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف ہی اس معاملے میں بااختیار ہیں۔ ہم انتظار میں ہیں کہ وہ کب ہم سے ملاقات کرینگے۔

دوسری جانب مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کے ٹیکسٹ بک بورڈ کے منظور کردہ سائنسی مضامین کو میٹرک کے نصاب میں شامل کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارا اصل مسئلہ ہماری تنظیمات کے تمام درجات کی اسناد کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنا اور پاکستان میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے طرز پر انہیں میٹرک تا ایم اے کے امتحانات لینے اور نصاب مقرر کرنے کو قانونی حیثیت دینا ہے۔

واضح رہے کہ لندن بم دہماکوں کے بعد صدر پرویز مشرف نے پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ سے پاکستان چھوڑنے کو کہا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
قاتل کی گرفتاری کا دعویٰ
24 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد